حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 128
پھر اپنے کاروبار میں مصروف ہو۔ہاں یہ ضروری ہے کہ ان کاروبار میں مصروف ہو کر بھی یادِ الہٰی کو نہ چھوڑے بلکہ دست بہ کار دل بہ بار ہو اور اس کا طریق یہ ہے ہر کام میں اﷲ تعالیٰ کی رضا کو مقدّم رکھے اور دیکھ لے کہ آیا خلاف مرضیٔ مولیٰ تو نہیں کر رہا۔جب یہ بات ہو تو اس کا ہر فعل خواہ وہ تجارت کا ہو۔یا معاشرت کا۔ملازمت کا ہو یا حکومت کا۔غرض کوئی بھی حالت ہو۔عبادت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔یہاں تک کہ کھانا پینا بھی اگر امر الہٰی کے نیچے ہو تو عبادت ہے! یہ اصل ہے جو ساری فتح مندیوں کی کلید ہے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس اصل کو چھوڑ دیا۔جب تک اس پر عمل درآمد رہا۔اس وقت تک وہ ایک قوم فتہ مند قوم کی حالت میں رہی۔لیکن جب اس پر سے عمل جاتا رہا۔تو نتیجہ یہ ہوا۔کہ یہ قوم ہر طرہ پستیوں میں گر گئی۔۱؎ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اﷲ:ہر جمعہ میں اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے کہ کوئی شخص تم کو وعظ سنائے اور اتنا وقت ہو کہ نماز سے پہلے سُن لو۔اس کے بعد نماز پڑھو۔نماز کے بعد تم کو اختیار ہے کہ دنیوی کاموں میں لگ جاو۔مَیں اس حکم کے مطابق تم کو نصیحت کرتا ہوں۔اﷲ نے ہم کو کچھ اعضاء دئے ہیں اور ان اعضاء پر حکومت بخشی ہے اور پھر انسان کو اپنی صفات کا مظہر بنایا۔چونکہ کدا مالک ہے۔اس لئے انسان کو بھی مالک بنایا اور اس کو بہت بڑا لشکر دیا۔جن میں سے دو جار نوکروں کا میں ذکر کرتا ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَ کُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ۔سب کے سب بادشاہ ہو اور تم سے اپنی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔۲۔اَ لْاِمَامُ رَاعٍ وَ ھُوَ مَسْئُوْلٌ۔امام بھی راعی ہوتا ہے اور اس سے رعایا کی نسبت سوال ہو گا۔۳۔عورت کے بارے میں بھی فرمایا کہ وَ الْمَرْأَۃُ رَاعِیَۃٌ فِیْ بَیْتِ زَوْجِھَا مَیں ان بادشاہوں کا ذکر نہیں کرتا۔جو ملکوں پر حکمرانی کرتے ہیں بلکہ اس کا ذکر کرتا ہوں جو تم سب اپنے اپنے اعضاء پر حکمران ہو۔ان سب میں سے بڑی چیز دل ہے جس کے کچھ فرائض ہیں کجھ مُحّرمات۔کچھ مکروہات۔کچھ مباحات۔دل کے فرائص بتاتا ہوں۔اس کا عظیم الشان فرض ہے کہ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِپر ایمان لائے۔جب تک دل اس فرض کو ادا کرنے والا نہ ہو۔ہلاکت میں ہے ۱؎ الحکم ۲۸؍ فروری ۱۹۰۳ء صفحہ۳ تا ۶