حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 124
ایک جمعہ تو ہفتہ کے بعد پڑھتے ہیں۔جیسے یہ جمعہ چھوٹا ہے۔ویسے ہی اس کے مقابل تجارتیں بھی چھوٹی ہوتی ہیں۔لیکن ایک عظیم الشان جمعہ ہے۔چھ ہزار برس کے بعد ساتویں ہزار کا جمعہ ہے۔اگر اَور دنوں میں جمعہ کی ضرورت ہے اور اس کے حق میں ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ جو جمعہ کی پرواہ نہیں کرتا اس کا ۱ ؍ ۴ حصہ دل کا سیاہ ہو جاتا ہے۔اور دو جمعہ کے ترک سے نصف اور چار جمعہ کے ترک سے سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور اس طرح پر گویا عبادت کی لذّت ہی باقی نہیں رہتی۔پھر فرمایا۔جو جمعہ سے تخلّف کرتے ہیں میرے جی میں آتا ہے کہ اُن کے گھروں میں آگ لگا دی جاوے۔اور پھر فرمایا کہ اس جمعہ میں ایک وقت ہے جو قبولیتِ دُعا کا وقت ہے۔پھر اسی جمعہ میں آدم اپنے کمال کو پہنجا اور بہشت میں داخل ہوا۔بہست سے باہر مخلوقات کے پھیلانے کا ذریعہ ہوا۔اسی جمعہ میں بہت درود شریف پرھنے کا ارشاد ہوا۔کم از کم سو بار جمعہ کی رات اور دن کو۔اور ایک اَور عظیم الشان بات ہے کہ جمعہ کے دن سورۃ کہف پڑھ لیا کرو۔اَور نہیں تو کم از کم پہلی اور آخری دس آیتیں ہی پڑھ کیا کرو۔پہلی آیتوں کو جب ہم دیکھتے ہیں تو ان میں لکھا ہے۔(الکہف:۵)یعنی ان کو ڈرایا جاوے جنہوں نے اﷲ کا ولد تجویز کیا ہے اور یہ بھی ہے کہ اس کا بیٹا تجویز کرنے میںمَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ نہ ان کے پاس نہ اُن کے بڑوں کے پاس کوئی علمی دلیل ہے۔ہاں یہ بات ہے یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًاان کو اپنی صنعتوں پر ہی ناز ہے۔اب ان تمام امور پر نظر کرو اور سوچو تو معلوم ہو گا کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے معمولی جمعہ میں بھی فتنِ دجّال سے ڈرایا ہے۔جمعہ میں فتنِ دجّال سے ڈرانا اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے۔جس پر اﷲ تعالیٰ نے محچض اپنے فضل سے مجھے مطلع کیا ہے کہ جمعہ کے ساتھ تو عظیم الشان تعلق ہے بلکہ مَیں یقینا کہتا ہوں کہ جمعہ کا وجود بھی مسیح موعود علیہ الصلوٰث والسلام کی بعثت اور آمد کے لئے ایک نشان اور پیسگوئی تھا۔مگر افسوس ہے کہ جب مسلمانوں نے معمولی جمعہ سے لاپرواہی کی اور اس کو ترک کر دیا تو اُس برے جمعہ کی طرف آنے کی ان کو توفیق ملنی بہت مشکل ہو گئی۔مَیں نے بڑی غور کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے زوال کی تاریخ پر فکر کی ہے۔اور میں اس صحیح نتیجہ پر پہنچا ہوں۔کہ یہ سلسلہ زوال اُس وقت سے شروع ہوتا ہے جب مسلمانوں نے ترک جمعہ کو کیا فتنِ دجّال سے جو جمعہ کے اداب میں ڈرایا ہے یہ اشارہ تھا اس امر کی طرف کہ دجّال کا فتنہ عظیم اُس جمعہ میں ہونیوالا ہے۔دجّال کے مختلف معنی ہیں۔دجّال سونے کے معنے بھی دیتا ہے اور دجّال تجارتی کمپنیوں کو بھی کہتے ہیں یہاں جملہ میں بیعؔ کے لفظ سے بتایا ہے کہ دجّال کی پروا نہ کرو۔اب یہ وہ جملہ آ گیا ہے جس کی یاددہانی جمعہ میں رکھی