حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 120 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 120

کا ابھی مَیں نے ذکر کیا۔انجیل کی اصلیء زبان کا سوال ہے۔جس کے حل نہ ہونے کی وجہ سے اناجیل کی حقیقت بہت ہی کمزور اور بے اصل ثابت ہوتی ہے۔جب یہ پتہ ہی نہ رہا۔کہ اصل کتاب کس زبان میں تھی؟ تو کتاب کی اصلیت میں کتنا بڑا شک پڑتا ہے؟ اور یہ ایسی زبردست زد ہے عیسائی مذہب پر کہ اس کا جواب کچھ نہیں دے سکتے۔چونکہ اصل کتاب ہاتھ میں نہیں ہے۔بلکہ ترجمہ در ترجمہ ہے اس لئے اور بھی غلطیاں در غلطیاں اس میں واقع ہو گئی ہیں۔اور اس کا اندازہ کرنا ہی اب قریباً ناممکن ہو گیا ہے۔کہ یہ قوم کس قدر غلطیوں میں مبتلا ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کتاب کے متعلق یہی فیصلہ دیا ہے۔   (البقرۃ:۸۰) غرض عیسائی قوم تو ان مشکلات میں مبتلا تھی اور ہے۔اس لئے اس قوم کو مخاطب کیا جس کا یہ دعوٰی تھا۔(المائدۃ:۱۹) پس ان کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر تمہار ایہ دعوٰے اور زُعم ہے کہ تم خدا کے محبوب اور انبیاء اور اولیاء ہو تو پھر ……… کی تمنّا کرو۔اولیاء اﷲ نہیں فرمایا۔اس لئے کہ اﷲ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا کہ ایسی قوم کو جو گدھے سے مشابہ ہو چکی ہے۔اپنی طرف مضاف کرے۔اَلْمَوْت کی تمنّا کرو۔یہ ایک قوم فیصل ہے ان لوگوں کے درمیان اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اور آپؐ کے بروز علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان۔بہادر ہو۔خدا کے حضور اپنے تئیں راست باز اور مقرّب سمجھتے ہو تو پھر آؤ۔میری موت کے لئے بد دعائیں کرو۔اور منصوبے باندھو کہ مَیں مر جاؤں۔پھر دیکھ لو گے کہ کون کامیاب ہوتا ہے۔چنانچہ غور کرو کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے لئے کس قدر کوششیں اور ناپاک منصوبے کئے گئے اور آپ کی جان لینے کے لئے کون سا دقیقہ تھا جو باقی رکھا گیا۔لیکن اﷲ تعالیٰ نے کیسے اپنے وعدہ کو پورا کیا۔(المائدۃ:۶۸) میں اَلْمَوْت کے معنی آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی موت کی آرزو اور کوشش کیوں کرتا ہوں۔اس کا ایک زندہ ثبوت ہے۔احمد کے مظہر نے دنیا کے تمام سجادہ نشینوں اور سیفی پڑھنے والوں کو کہا ہے کہ میرے لئے بد دعا کرو اور پھر دیکھو کہ وہ کس پر اُلٹ پڑتی ہیں۔مخالف جو بد دعائیں کرتے ہیں۔ان کی بد دعائیں ان پر لوٹیں گی۔جو موت کی آرزو کرتے ہیں۔خود موت کا نشانہ بنیں گے اور آخر ان کو ماننا پڑے گا اور یا منافقانہ رنگ میں خاموش ہو جائیں گے اور مِلل ہالِکہ چوہڑوں اور چماروں کی طرح زندگی بسر کریں گے ۱؎۔۱؎ الحکم ۳۱؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۵