حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 119
۔کہہ دو۔اے یہودیو! اگر تمہیں یہ ناز اور گھمنڈ ہے کہ تم اﷲ کے ولی ہو۔تو اگر اس دعوٰی میں سچے ہو تو پھر الموت کی تمنّا کرو۔یہودیوں کو اس لئے خصوصًا مخاطب فرمایا۔کہ وہ عیسائیوں کے بالمقابل مشکلات میں نہ تھے۔اور کتاب اﷲ کے وارث تھے۔چونکہ عمل نہ تھا اور دنیوی لذّات اور شہوات پر جو عارضی اور فانی تھیں مَرمٹے تھے۔اس لئے گدھے کہلائے۔بایں وہ اس امر کے مدّعی تھے۔کہ نَحْنُ اَبْنَآئُ اﷲِ وَ اَحِبَّآئُ ہٗ ان کا یہ دعوٰی لوگوں کو حیرات میں ڈالتا تھا۔اس لئے اس دعوٰی کی صحت اور عدمِ صحت کے لئے اﷲ تعالیٰ اب اس طرح پر تحدّی کرتا ہے۔عیسائیوں کی طرح مشکلات میں نہ تھے اس سے یہ مراد ہے کہ عیسائی قوم اپنی کتاب کے متعلق خطرناک مشکلات میں مبتلا ہے۔اوّل حضرت مسیح علیہ السلام کی کوئی کتاب ہی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے اور یہ مشکل بہت ہی خطرناک مشکل ہے۔پھر دوسری مشکل یہ ہے کہ جو کچھ ان کے ہاتھ میں ہے۔اس کے متعلق یہ قطعی اور یقینی فیصلہ نہیں ہے۔کہ وہ مسیح کے حواریوں کی ہی ہے۔کیونکہ لُوقااور مرقس کی بابت تو صاف فیصلہ ہے کہ وہ حواری نہ تھے۔اور یوحنّا کی بابت بھی بہت سے اعتراص ہوتے ہیں اور ان میں الحاقی حصّے پائے جاتے ہیں۔پھر یہ دعوٰی نہیں کہ وہ کدا کے الہام اور وحی سے لکھے گئے ہیں۔پھر تیسری مشکل اور ہجے کہ ان میں باہم اس قدر اختلاف ہے جو ان کو پایۂ اعتبار سے ساقط کر رہا ہے۔علاوہ بریں بہت سی باتیں اُن میں ایسی پائی جاتی ہیں۔جن کی کوئی اصل ہی نہیں۔چہارم یہ مشکل ہے کہ جس زبان میں مسیح نے وعظ کیا تھا۔وہ عبری زبان تھی۔ان کی ماں کی بھی یہی بولی تھی۔چنانچہ مسیحؑ کے آخری الفاظ جو انجیل میں موجود ہیں۔ایلی ایلی لما سبقتانی۔یہ بھی عبرانی ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں یونانی کو اصل سمجھا گیا۔حالانکہ یہ زبان عبری کے مقابل میں ردّی اور کفر سمجھی جاتی تھی۔یہاں تک کہ یروشلم میں یونانی کے متعلق کسی نے فتوٰی پوچھا کہ کیا اس کو پڑھ سکتا ہوں تو اس کو یہی جواب دیا گیا کہ رات اور دن کے تمام گھنٹوں میں عبرانی پڑھو۔پھر اس سے جو وقت بچے۔اس میں یونانی پڑھ لو۔اب اس سے اندازہ کر لو کہ یونانی کیسی پھیلی ہوئی تھی اور اس سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے تھے۔یوسی فس مؤرخ عبری تھا۔وہ یونانی جانتا تھا مگر اسے یہ عُذر کرنا پڑا کہ یونانی حرام ہے۔اچھا آدمی اس کو سیکھ نہیں سکتا۔یو سی فس مستثنیٰ کیا گیا ہے۔اور اس طرح پر گویا قوم کا کفر کیا گیا ہے۔عرض اس قسم کی مشکلات میں عیسائی قومیں مبتلا ہیں۔سب سے بڑی مشکل جس