حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 106 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 106

بمبئی تک ہی سمجھی جاتی ہیں۔اس کے بعد پھر کوی مذہب نہیں۔الّا ماشاء اﷲ ! ایک معزّز ہندو نے نواب محمد علی کان صاحب کے مکان پر بیان کیا کہ یہ مت پوچھو کہ ولایت میں کیا کیا کھایا؟ بلکہ یہ پوچھئے کہ کیا نہیں کھایا؟ غرض حبائل الشیطان کی وہ حالت جماع الاثم کا وہ زور وشور۔سلطنت کا رعب وسطوت وجبروت الگ۔یہاں تک کہ بعص دفعہ ایسا بھی ہوا ہے۔گو ویسے کچھ انور ہی ظاہر کر دیا گیا ہو کہ مقدمات میں تبدیلی مذہب نجات کا موجب ہو گئی اور مجسٹریت نے لکھ دیا کہ عیسائی مذہب کی وجہ سے خلاف گواہی دی گئی یا مقدمہ بنایا گیا۔ایک آدمی بجائے خود ذلیل اور کسمپرس ہوتا ہے لیکن مشنریوں کے ہاں جا کر اسے روزگار مل جاتا ہے۔یا کسی کو ممانعت روزگار ہوئی۔مشنریوں نے پادری بنا دیا۔اس قسم کے واقعات موجود ہیں۔یہ خیالی یا فرضی باتیں نہیں ہیں۔مشنریوں کی بعص رپورٹوں تک سے واقعات کُھل جاتے ہیں اگر ان پر زیادہ غور کی جاوے۔یہ تو ان لوگوں کی آزادی کے اسباب ہیں جنہوں نے مذہب کی پرواہ نہیں کی۔اس علاوہ مصنفوں اور ماسٹروں کا اثر پڑھنے والوں پر اندر ہی اندر ایک مخفی رنگ میں ہوتا چلا جاتا ہے۔تصنیف کا ایسا خوفناک اثر ہوتا ہے کہ دوسروں کو معلوم بھی نہیں ہوتا۔اور شاید پڑھنے والا بھی اسے جلدی محسوس نہ کر سکے۔مگر آخر کار وہ ایسا متائثر ہوتا ہے کہ خود اس کو جرأت ہوتی ہے۔شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے بھی اس اثر کے متعلق لکھا ہے اور میں چونکہ بہت کتابوں کا پڑھنے والا ہوں۔میں نے تجربہ کیا ہے اور علاوہ بریں علمِ طبّ کے ذریعہ مجھے اس راز کے سمجھنے میں بہت بڑی مدد ملی ہے۔میر حسنؔ کی مثنوی پڑھ ہزاروں ہزار لڑکے اور لڑکیاں ذانی اور بدکار ہو گئی ہیں۔اور یہ ایسی بیّن اور ظاہر بات ہے کہ کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا۔جب کہ تصانیف کا اثر طبائع پر پڑتا ہے۔اور ضعیف طبیعتیں بہت جلد اس اثر کو قبول کرتی ہیں تو آجکل تصانیف کے ذریعہ جو زہر مشنری گروہ نے پھیلایا ہے۔اس کے متعلق مجھے کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہر رنگ میں فلسفہ تاریخ، طبّ وغیرہ ہر شاخِ علم اور ہر کتاب میں مذہب سے مغائرت اور آزادی کا سبق پڑھایا جاتا۔اور اسلام کی پاک تعلیم پر کسی نہ کسی رنگ میں حملہ کیا جاتا ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ تعلیم کا جادو کچھ ایسا کارگر ہوا ہے کہ ہرشخص بلا سوچے سمجھے کہ اس کے بچّے کو کس قسم کی تعلیم مفید اور کارآمد ہو سکتی ہے۔اپنے لڑکوں کو سکول اور کالج میں بھیجتا ہے۔جہاں حفاظتِ دین کے اسباب بہم نہیں پہنچائے جاتے۔وہاں قسم قسم کی فصیح و بلیغ تقریروں والے اور بڑی بڑی لمبی داڑھیوں والے عجیب غریب باتیں سناتے ہیں اور یورپین اقوام کی ترقیوں اور صنّاعیوں پر لیکچر دے دے کر نوجوانوں کو اس طرف مائل کرتے ہیں۔یہاں تک کہ سیدھے سادھے نوجوان جو اپنی مذہبی تعلیم سے بالکل کورے اور صاف ہوتے ہیں۔مذہب کو ایک آزادی کی مانع چیز سمجھنے لگتے ہیں اور انسانی ترقیوں کا مانع اسے قرار