حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 97 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 97

دیکھ سکتا تھا۔اور اس کی نگاہ اتنی اونچی نہ تھی تو زمین میں ہی دیکھتا کہ اس کے لئے کیا نشان ہیں اور اس امر پر غور کرتا کہ قرآن تو اس لئے آیا ہے لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْ مَا اخْتَلَفُوْافِیْہِ۔اب اس دعوٰی کے موافق اس وقت کوئی اختلاف ہے یا نہیں۔اور پھر قرآن شریف اس اختلاف کے مٹانے کے لئے بس ہے یا نہیں؟ پہلی بات پر نظر کر کے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اختلاف کثرت سے پھیلا ہوا ہے۔سب سے پہلا اختلاف تو ہمیں اپنے ہی اندر نظر آتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ بعص صداقتیں ہمارے اندر ہیں۔جن کو ہم ایمانیات یا عقائد کہتے ہیں اور پھر کجھ اعمال ہیں جو یا نیک ہوتے ہیں یا بد۔اب مطالعہ کرتے کہ کیا وہ اعمال ان مسلّمہ نیکیوں اور صداقتوں کے موافق ہیں یا مخالف ہیں۔اگر اس کی مانی ہوئی نیکیاں اور ہیں اور نیک اعمال فی نفسہٖ اور ہیں تو اس کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی کہ یہ پہلا اختلاف مٹنا چاہیئے۔۱؎ پھراس اختلاف کے بعد اگر اور بلند نظری سے کام لے تو اس کو بہت بڑا اختلاف ان لوگوں میں نظر آئے گا جو بخیالِ خویش و بزعمِ خود اکابرین ملّت اور علماء اُمّت بنے ہوئے ہیں۔ان کے باہمی اختلاف کو چھوڑکر اگر خود ان کی حالت پر نظر کی جاوے۔تو ان کے قول اور فعل میں بُعدِ عظیم پایا جائے گا۔اسی کو زیرِ نظر رکھ کر ایک پارسی شاعر نے کہا ہے ؎ مشکلے دارم زدانشمند مجلس باز پُرس توبہ فرمایاں چراخود توبہ کمترمی کنند یہ واعظ۔یہ معلّم الخیر ہونے کے مدّعی۔صوفی اور سجادہ نشین چراخود توبہ کمترمی کنند کے مصداق ہیں۔یہاں تک تو وہ شاعر قعل و دانش کی حد کے اندر ہے۔اس سے اور آگے چل کر کہتا ہے۔؎ واعظاں کیں جلوہ بر محراب و منبرمی کنند چُوں بخلوت می روند آن کارِ دیگرمی کنند یہ گواہی جو اس پارسی بان شاعر نے دی ہے کوئی مخفی شہادت نہیں بلکہ واعظوں۔صوفیوں۔سجادہ نشینوں تک پہنچی ہوئی ہے۔کیونکہ ان کی مجلسِ وعظ یا مجلسِ و جدو ہال وقال کے لئے اس کے شعر ضروری ہیں۔اور ہر ایک مسلمان جو کبھی کبھی اپنی مشکلات اور مصائب میں پھنس کر بے قرار ہوتا ہے تو بد قسمتی سے اسی لسان الغیب کا فال لینے کی طرف توجہ کرتا ہے۔اور یوں اپنے اوپر اس دورنگی اور اختلاف کا جو واعظوں اور معلم الخیر کے مدّعیوں میں ہے ایک گواہ ٹھیرتا اور اپنے اوپر حجّت ملزمہ قائم کرتا ہے۔اب ان ساری باتوں ۱؎ الحکم ۱۷ نومبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۴،۱۵