حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 6 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 6

کبھی نہیں کرتا۔بہر حال یہاں اﷲ تعالیٰ نے گناہوں سے بچنے کا ایک گُر بتایا ہے۔۔ ایماندارو! ظن سے بچنا چاہیئے کیونکہ بہت سے گناہ اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔اِیَّاکُمْ وَ الظَّنَّ فَاِنَ الظَّنَّ اکْذَبُ الْحَدِیْثِ ایک شخص کسی کے آگے اپنی ضرورتوں کا اظہار کرتا اور اپنے مطلب کو پیش کرتا ہے۔لیکن اس کے گھر کی حالت اور اس کی حالت کو نہیں جانتا اور اس کی طاقت اور دولت سے بے خبر ہوتا ہے۔اپنی حاجت براری ہوتے نہ دیکھ کر سمجھتا ہے کہ اس نے جان بوجھ کر شرارت کی اور میری دستگیری سے منہ موڑا۔تب محض ظن کی بناء پر اس جگہ جہاں اس کی محبت بڑھنی چاہیئے تھی۔عداوت کا بیج بویا جاتا ہے۔اور آہستہ اہستہ ان گناہوں تک نوبت پہنچ جاتی ہے جو عداوت کا پھل ہیں۔کئی لوگوں سے میں نے پوچھا ہے کہ جب تم نے میرا نام سنا تھا تو میری یہی تصویر اور موجودہ حالت کا ہی نقشہ آپ کے دل میں آیا تھا۔یا کچھ اور ہی سماں اپنے دل میں آپ نے باندھا ہوا تھا تو انہوں نے یہی جواب دیا ہے کہ جو نقشہ ہمارے دل میں تھا اور جو کچھ ہم سمجھے بیٹھے تھے وہ نقشہ نہیں پایا۔یاد رکھو۔بہت بدیوں کی اصل جڑھ سوء ظن ہوتا ہے۔میں نے اگر کبھی سوء ظن کیا ہے۔تو اﷲ تعالیٰ نے میری تعلیم فرما دی کہ بات اس کے خلاف نکلی۔میں اس میں تجربہ کار ہوں۔اس لئے نصیحت کے طور کہتا ہوں کہ اکثر سوء ظنیوں سے بچو۔اس سے سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔اسی واسطے اﷲ کریم فرماتا ہے۔وَ لَا تَجَسَّسُوْا۔تجسّس نہ کرو۔تجسّس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کسی کی نسبت سوء ظن کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جاویں اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے۔اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے۔اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کا کیا جواب دوں گا۔اپنی بدظنی کو پورا کرنے کیلئے تجسُّسْ کرتا ہے اور پھر تجسّس سے غیبت پیدا ہوتی ہے جیسے فرمایا۔اﷲ کریم نے وَ لَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا۔غرض خوب یاد رکھو سوء ظن سے تجسُّسْ اور تجسُّسْ سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے۔اور چونکہ آجکل ماہ رمضان ۱؎ ہے۔اور تم لوگوں میں سے بہتوں کے روزے ہوں گے۔اس لئے یہ بات میں نے روزہ پر بیان کی ہے اگر ایک شخص روزہ بھی رکھتا ہے اور غیبت بھی کرتا ہے اور تجسّس اور نکتہ چینیوں میں مشغول رہتا ہے۔تو وہ اپنے ۱؎ ماہ اکتوبر ۱۹۰۷؁ء۔مرتّب