حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 82 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 82

سُوْرَۃُ طٰہٰ مَکِّیَّۃٌ  ۲۔ : عربی زبان میں اس شخص کو کہتے ہیں جس کو کسی بات کی دَھت لگ رہی ہو… عربی لٹریچر میں محبوبوں کے حسن و جمال۔اپنے اظہارِ کمال۔جتھّے کی طاقت۔دشمن کی ہلاکت کی نسبت بہت کچھ پایا جاتا ہے۔اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں اﷲ کی عظمت۔اﷲ کی جبروت۔اﷲ کے عجائباتِ قدرت کا بیان ہوتا ہے۔(بدر ۲۴؍ اگست ۱۹۱۱ء صفحہ۴) مومن کیلئے تسلّی کی بڑی ضرورت ہے اور تسلّی میں نمونہ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔صحابہ کرامؓ اور نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم ہر طرف سے دشمن میں گھِرے ہوئے تھے۔اس حالت میں ان کو حضرت موسٰیؑ کا بیان سنایا جاتا ہے کہ کیونکر وہ دشمنوں سے محفوظ رہے اور آخر کار مظفر و منصور ہوئے۔اس رکوع میں واعظ کے سہارے کا ذکر ہے۔ٰ جس کو کسی کام کی دھت لگی ہوئی ہو کہ ضرور ہو جائے اور اس میں وہ کامیاب ہو توکہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍مئی ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۶) اس سورۃ میں قبولیتِ دعا کی تائید ہے۔ٰ : او بڑے آدمی۔او حریص (تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۶۶) ۳ تا ۶۔