حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 73
رکھتے تھے۔(تشحہیذالاذہان جلد 8 ص۹ ،۴۶۶ ) : یہاں ایک روایت لکھی ہے۔کہ ایک شخص نے ان سے کہا کہ میں آتا ہوں آپ یہاں ٹھہرو۔آپ نے کہا۔اچھا۔ایک سال تک کھڑے رہے۔یہ جھوٹی روایت ہے۔کیا وہ نمازیں نہیں پڑھتے تھے۔: ایک اور جگہ فرمایا ہے (طٰہٰ:۱۳۳) مطلب یہ ہے کہ قسم قسم کے پیرایوں میں کہتا ہی چلا جاوے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۵) ۵۷،۵۸۔ : آپ کا دوسرا نام اخنوک ہے۔حضرت نوحؑ سے پہلے ہوئے تھے۔یہوداہ کے پہلے خط کے ۱۴ باب میں ان کا ذکر ہے۔: ہم نے عظیم الشان رفعت (مرتبہ) دی تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) ۵۹۔ : فرماں برداری کیلئے گرپڑتے ہیں۔ایک عجیب کہانی حضرت الیاسؑ کے متعلق لکھی ہے۔کہ ملک الموت سے کہا کہ جان نکال کر دکھاؤ چنانچہ اس نے ایسا کیا۔خود آپ بہشت میں گئے۔پھر واپسی سے انکار کر دیا۔ایسی کہانیاں یہودیوںکی شرارت سے غالباً اسلامی تفاسیر میں داخل ہوئی ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) ۶۰۔ پھر ان کے بعد ایسے جانشین پیدا ہوئے جنہوں نے عبادتِ الہٰی کو ترک کیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔جلدی وہ سزا کو پہنچیں گے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۹) خَلْفٌ: (ل کے سکون کے ساتھ) گندے پیچھے آنیوالے۔خلف (ل کی فتح کیساتھ) نیک لوگ پیچھے آنے والے۔غَيٌّ : جہنم کا نام ہے (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) ۶۲۔ : آنے والا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) ۶۴۔ : اس میں ایک پیشگوئی ہے کہ ارضِ مقدّس کے مالک مسلمان ہوں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۹؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۵) ۶۵،۶۶۔