حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 71
چونکہ آپ نے خدا کیلئے ایسا کیا اس لئے اﷲ نے اس کے عوض میں فرمایایعنی حضرت اسحٰقؑ و حضرت یعقوبؑ ایسے برگزیدہ دئے اور سخت زبانی کے مقابل پر فرمایا۔یعنی ان کا ذکرِ جمیل دنیا میں کر دیا۔(بدر ۲۴؍ اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۵۲۔ حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کو اولاد ابراہیم میں حضرت موسٰیؑ سے خصوصیت کے ساتھ مشابہت ہے۔اس لئے ان کا ذکر خاص غور کے قابل ہے۔قرآن مجید میں کئی جگہ اس مشابہت کا ذکر فرمایا۔مثلاً (المزمل:۱۶) (الاحقاف : ۱۱)(اٰل عمران:۷۴) : اس کتاب( قرآن شریف) میں حضرت موسٰیؑ کا ذکر لوگوں کو سناؤ۔اس مشابہت کا ذکر اس لئے فرمایا تا عیسائی و یہودی اپنے مانے ہوئے رسول حضرت موسٰیؑ کے معیارِ صداقت پر اس نبی کو پَرکھ لیں۔: حضرت نبی کریمؐ کے اخلاص کا ذکر بھی ایک جگہ فرمایا ہے (النجم:۹،۱۰) عرب میں ایک رسم ہے۔جو دو دوست بننا چاہتے ہیں تو عمائد کو جمع کر کے اپنی اپنی کمانیں ملاتے اور اس میں ایک تیر رکھتے۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا۔جو تمہارا دوست۔ہمارا دوست۔جو تمہارا دشمن وہ ہمارا دشمن۔جنابِ الہٰی سے بھی تعلّقاتِ اخلاص ہوتے ہیں۔چنانچہ ایسے مخلصین کیلئے خدا تعالیٰ حدیثِ قُدسی میں فرماتا ہے کہ اے ابنِ آدم۔اگر تُو میری طرف چل کر آئے۔تو میں دَوڑ کر آؤں۔میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ کوئی مخلص دنیا میں بھی ایسی مشکلات میں پڑا ہو جن کا انجام اس کے حق میں بُرا ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۴)