حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 69 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 69

یہ باتیں کچھ نفع نہیں پہنچاتیں۔: ہر ایک طرح کی افراط و تفریط سے بچی ہوئی راہ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴) ابراہیمؑ نے اپنے باپ کو کہا۔اے پیارے باپ کیوں بُتوں کی پرستش کرتا ہے۔وہ تو تمہاری دعاؤں کو سُنتے نہیں اور تمہاری حالت کو دیکھتے نہیں اور اگر سنتے اور دیکھتے بھی تو تمہاری کچھ بھی حاجت براری نہیں کر سکتے۔اے میرے پیارے باپ! مجھے تو خدا پرستی کے فوائد کی سمجھ ہے۔مجھے معلوم ہے کہ بُت پرستی ہمارے تمدنی۔اخلاقی وغیرہ وغیرہ میں مضر ہے۔مگر افسوس تجھے ان باتوں کی خبر نہیں پس تجھے چاہیئے۔میرا کہا مان میں تجھے سیدھی راہ بتا دوں گا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۸۸۔۲۸۹) ۴۵،۴۶۔   اے پیارے باپ نافرمان اور رحمت سے دور شیطان کی فرماں برداری مت کر۔شیطان تو رحمن جیسے محسن کانافرمان ہے۔میرے پیارے باپ بے ریب مجھے تو ڈر ہے کہ تجھے رحمان بھی عذاب دے اور تو شیطان کا ساتھی ہو جاوے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۸۹) : پہلے آدمی خود بدی کرتا ہے۔تب خبیث روحیں ( شیطان) اس کے یارو آشنا بن جاتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴) ۴۷۔  : سنگسار کرنا ترجمہ نہیں۔بلکہ لَاَشْتُمَنَّکَ میں تجھے گالی دوں گا۔یہاں جو ترجمہ لکھا ہے ٹھیک نہیں۔کیونکہ یہ معنے صحابہ۔تابعین۔تبع تابعین نے نہیں کئے… (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴)