حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 68
اسحٰق پیدا ہوئے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۶۶ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) حضرت ابراہیمؑ کی زندگی مومنوں کیلئے نہایت عمدہ اسوۂ حسنہ ہے۔بلحاظ خوراک ، پوشاک، قطع و ضع، خصائل فطری، عزّت، مقبولیتِ عامہ، ذکرِ خیر، اپنی نظیر آپ ہی تھے۔اس تمام کامیابی کا گُر بتایا ہے کہ ابراہیمؑ صدیق تھا۔جس کے ادنیٰ معنے راست گفتار کئے ہیں۔ہر مضبوط کام جس کا نتیجہ عمدہ ہو اسے عرب صدق کہتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ۱۶۴) …حضرت ابراہیمؑ خدا کے بڑے پیارے بندوں میں تھے اور اپنی ذات میں کمالات کے جامع تھے۔ہمیںتو ان کے والد کا نام بھی کسی صحیح روایت سے معلوم نہیں۔پھر بھی ان کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ تمام یوروپ۔تما م امریکہ۔تمام مسلمان۔تمام عرب۔یہود۔مجوسی ان کی عظمت کے قائل ہیں۔کوئی بڑا ہی بد بخت ہو جو منکر ہو۔بعض اولیاء و انبیاء کو عجیب مقبولیت ہے۔یہ بھی خدا کی ایک شان ہے۔سیّد عبدالقادر جیلانی ؒکو بُرا کہنے والے بہت کم ہیں۔ہاں رافضی ہوں تو ہوں۔سچ بولنا بڑا وصف ہے۔یہ بڑا ہی کٹھن رستہ ہے۔آٹھ پہر میں اس بات کی طرف بھی غور کرو۔کہ تم نے کہاں تک سچ بولا ہے۔میں ایمان رکھتا ہوں کہ جس نے زبان پر قابو پایا۔اس نے بہت سے عیوب پر قابو پا لیا۔نبی کے معنے خدا سے خبر پا کر اطلاع دینے والا اور بہت ہی بڑائی والا۔(بدر ۲۴؍اگست ۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۴۳،۴۴۔ اب: چچّا : شمس کی۔چندر ماہ کی۔مرکری کی پرستش کی جاتی ہے۔پھر ان سے اتر کر ان ہیکلوں میں۔: مسلمانوں میں بھی لوگ’’ یا شیخ عبدالقادرلِلّٰہ‘‘ پڑھتے ہیں