حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 4
اَلْکَھْفِ: ملک کی ایک سرحد پر۔کنارہ پر (تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۴۶۴) اصحابِ کہف جس قوم کا نام ہے۔ایک تو ان کا نشان ہے۔کہ ہر چیز پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوتا ہے۔دوم وہ پہلے ایسے ملک میں ہجرت کر کے گئے۔جو ایک کنارہ پر ہے اور سورج اس سے ہمیشہ دکّن کی طرف رہتا ہے۔میرا دل چاہتا ہے۔تمہارے معاملات دنیوی بالکل صاف ہوں اور تم خدا کے حکم کی تعمیل میں چھوٹے سے چھوٹا معاملہ بھی ہو تو اسے لکھ لو۔فَاکتُبُوْہُ صَغِیْرًا اَوکَبِیْرًا۔ایک سفر میں چند بھائی میرے ساتھ تھے۔وہ خرچ کرتے تھے۔میں نے کہا لکھ لو تو انہوں نے میری تحقیر کی اور کہا ہم بھائی بھائی ہیں۔تم ہم میں تفرقہ ڈالنا چاہتے ہو۔آخر ایک موقع پر جا کر وہ سخت لڑے۔تب میری بات کی قدر معلوم ہوئی۔جو تم لوگ یہاںرہتے ہو۔وہ دوسرے کیلئے نمونہ ہو۔پس تمہارا یہاں رہنا بڑا خطرناک ہے سنبھل کر رہو۔اور اپنے تئیں قرآن مجید کے سچے متّبع بناؤ۔اﷲتم کو قرآن پر عمل کی توفیق دے۔(بدر ۱۷؍ اگست۱۹۱۱ء صفحہ ۳) ۱۱۔ اَلفتیۃُ: نوجوان۔حضرت مسیح ؑکو صلیبی موت سے بچانے کے معاملہ میں جو مؤیّد جماعت تھی اس پر بڑا ابتلاء آیا۔حاکم پلاطوس اور اس کی بیوی بھی اس مقدمہ میں قید ہوئے۔مگر کچھ لوگ ایسے تھے جو وہاں سے بھاگ نکلے۔کچھ مغرب کو گئے۔کچھ مشرق کو۔یہاں ان لوگوں کا ذکر ہے۔جنہوں نے بلاد غربی میں جا کر کہف میں جاپناہ لی۔جو کہ انگلستان کے جنوب مغربی گوشہ میں واقع ہے۔انہیں نوجوانوں میں یوسف اور میتابھی تھا جس نے حضرت مسیح ؑ کے بچانے میں بڑا حصّہ لیا تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۰؍ مارچ ۱۹۱۰ء صفحہ ۱۵۵) : اے ہمارے رب ہم کو اپنے پاس سے رحمت عطا کر اور ہمارے معاملہ میں ہمیں راہ کھول دے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۶۹)