حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 585 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 585

سُوْرَۃ الْفَتْحِ مَکِّیَّۃٌ  ۲،۳۔  ہجرت سے چھٹے سال حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ایک رؤیا ہوا کہ ہم مع صحابہ مکّہ میں گئے ہیں اور عمرہ کے بعد حَلْق کروا رہے ہیں۔اس بناء پر آپؐ نے پندرہ سو کے ہمراہ مکّہ کی طرف کوچ کیا۔حدیبیہ کے پاس مقام فرمایا۔ادھر سے مکّہ کے لوگ مقابلہ کو نکل آئے۔آپؐ نے فرمایا آپ سے لڑنے کیلئے نہیں آئے۔آپ ہم کو اجازت دیں کہ بیت اﷲ کا طواف کر کے چلے جائیں۔اس پر بڑا لمبا مباحثہ ہوا۔آخر یہ قرار پایا کہ ایک عہد نامہ لکھا جاوے دو فہرستیں تیار ہوں۔ایک میں نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اور ان قبیلوں کے نام ہوں جو ان کے ساتھ ہیں اور ایک طرف مشرکین اور ان کے ہمراہی قبیلوں کے نام ہوں۔دومؔ یہ کہ اس سال آپ واپس تشریف لے جائیں اور آئندہ سال حج کیلئے آویں۔آپؐ نے اسے منظور فرمالیا۔حالانکہ صحابہ ؓ سے بہت اس پر راضی نہ تھے۔سومؔیہ کہ اگر کوئی ہم ( مشرکین) میں سے مسلمان ہو جائے۔تو وہ آپ ہمراہ نہ لے جائیں۔نہ مدینہ میں رہنے دیں اور اگر آپ ( نبی کریمؐ) میں سے کوئی مرتد ہو جائے تو ہمیں واپس دیا جائے۔اسے بھی آپؐ نے مان لیا۔حضرت عمرؓ خصوصیت سے اس پر گھبرا رہے تھے۔چہارمؔ یہ کہ جباور محمد رسول اﷲ لکھنے لگے تو مشرکین مانع ہوئے اور کہا کہ ہم اگر آپ کو رسول مانتے تو یہ جھگڑا ہی کیوں کرتے۔یہ لفظ چونکہ لکھے جا چکے تھے۔حضرت علیؓ کو ان کا مٹانا گوارا نہ تھا۔اس لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انہیں خود مٹا دیا۔یہ چار شرطیں ایسی تھیں کہ صحابہؓ کو ان پر بڑا قلق تھا۔ایسی حالت میں یہ سورۃ نازل ہوئی۔۔اب بتاؤ۔اس وقت اس پیشگوئی کا سمجھ میں آنا آسان تھا ہرگز نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۴ صفحہ۱۸۰ماہ اپریل ۱۹۱۲ء)