حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 55
کریں تو ضرور وہ رعایا اس گورنمنٹ کی مجرم۔باغی۔غدار۔نافرمان ٹھہرے گی۔مگر وہی سپہ سالار اور گورنمنٹ کا ماتحت حکمران اس رعایا کو۔کوئی اپنا ذاتی کام بتاوے اور اپنے طور پر ان رعایا میں سے کسی سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کا آدمی اس سپہ سالار اور اس حاکم کی بات نہ مانے یا معاہدہ کا خلاف کرے تو یہ شخص جو اس سپہ سالار اور گورنمنٹ کے ماتحت حکمران کے معاہدہ اور حکم کا مخالف ٹھہرا ہے گورنمنٹ کی بغاوت کا مجرم نہ ہو گا۔کیونکہ پہلی قسم میں اس سپہ سالار اور حاکم کے احکام فاتح گورنمنٹ کے احکام ہوا کرتے ہیں۔اور اس سپہ سالار کی زبان فاتح گورنمنٹ کی زبان۔اس کی تحریر فاتح گورنمنٹ کی تحریر ہوا کرتی ہے۔غور کرو۔ایک قاتل کو مجاز حاکم کے حکم سے قتل کرنے والے یا پھانسی دینے والے کے ہاتھ اسی گورنمنٹ کے ہاتھ ہوتے ہیں۔جس کے حکم سے قاتل کو قتل کرنے والے اور پھانسی دینے والے نے قتل کیا اور پھانسی دیا۔در صورتِ دیگر وہی پھانسی دینے والا کسی اور ایسے آدمی کو جس پراس گورنمنٹ نے موت کا فتویٰ نہیںد یا۔قتل کر کے دیکھ لے کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔پس اسی طرح اﷲ تعالیٰ کے رسول ان کی بھی دو حالتیں اور دو جہتیں ہیں۔ایک حالت و جہت میں وہ آدمی ہیں بشر ہیں۔اور دوسری حالت ان کی رسالت و نبوّت کی ہے جس کے باعث وہ رسول ہیں۔نبی ہیں۔الہٰی احکام کے مظہر اور احکام رساں ہیں۔جس کے باعث ان کو پیغامبر کہتے ہیں۔پہلی حالت و جہت سے اگر وہ حکم فرماویں تو اس حکم کا منکر باغی۔منکرِ رسول نہ ہو گا۔جس کو شرعی اصطلاح میں کافر۔فاسق۔فاجر کہتے ہیں۔دوسری حالت و جہت سے اگر کوئی ان کے حکم کو نہ مانے تو ضرور ان کے نزدیک اس پر بغاوت۔انکار کا جرم قائم ہو گا۔اور ضرور وہ کافر۔فاسق۔فاجر کہلاوے گا۔اس جہت سے چونکہ وہ خداوندی احکام کے مظہر ہیں۔اور جس سے معاہدہ کرتے ہیں۔اس سے خدا کے حکم سے معاہدہ کرتے ہیں اور معاہدہ کنندہ جو معاہدہ ان سے کرتا ہے وہ اصل میں باری تعالیٰ سے معاہدہ کرتا ہے۔پس اگر معاہدہ کنندہ معاہدہ کے خلاف کرے تو باغی و منکر بلکہ کافر ہو گا۔نبی ٔ عرب محمد بن عبداﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے رسالت و نبوّت کا دعوٰی کیا اور اپنے آپ کو اﷲ تعالیٰ کا رسول بتایا۔اب ان کو جن لوگوں نے نبی و رسول مانا اور ان کے احکام کو الہٰی احکام یقین کیا۔لامحالہ آپؐ سے ان کا معاہدہ حقیقتاً اﷲ تعالیٰ سے معاہدہ ہو گا۔ہاں جو احکام اور مشورے اس عہدہ رسالت کے علاوہ فرماویں۔ان احکام کی خلاف ورزی میں کفروفسق نہ ہو گا۔صحابہ کرامؓ آپؐ کے عہدِ سعادت مہد میں یہ تفرقہ عملاً دکھاتے تھے۔بریرہؔنام ایک غلام عورت تھی جب وہ آزاد ہو گئی۔اور اپنے خاوند سے جو ایک غلام تھا بیزار ہو گئی۔مگر اس کا شوہر اس پر فدا تھا۔وہ اس کی علیحدگی کو گوارا نہ کرتا تھا وہ اس پر سخت کبیدہ خاطر ہوا اور آنجنابؐ کی خدمت