حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 568 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 568

سُوْرَۃ الدَُّخَانِ مَکِّیَّۃٌ  ۱۱۔ : قحط کے دن آئیں گے جن کی وجہ سے آسمان دھواں دھار نظر آئے گا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۱ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) جب ابن صیّاد کی بعض مشآبہ بہ دجّال شعبدہ بازیوں کا حال نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے حضور پہنچا توآپؐ اس کے پاس تشریف لے گئے اور اسے پوچھااَتَشْھَدُ اَنِّی رَسُوْلُ اﷲِکیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اﷲ کا رسول ہوں۔اس نے جواب دیا۔آپ اُمّیوں کے رسول ہیں۔پھر اس نے اپنی نسبت سوال کیا تو آپؐ نے جواب دیا کہ میں اﷲ کے سب رسولوں کو مانتا ہوں۔اس سے اس احتیاط کا پتہ چلتا ہے جو انبیاء کرتے ہیں۔یہ اور ان کے پَیرو لوگ کبھی تکذیب کی راہ اختیار نہیں کرتے۔پھر آپؐ نے پوچھا کہ میرے دل میں اس وقت کیا ہے۔تو اُس نے دُخّ کہا۔روایات میں آیا ہے۔کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس وقت  کا خیال فرمایا تھا۔ابن ؔ عربی نے اپنا ایک ذوقی لطیفہ اس واقعہ کے متعلق لکھا ہے۔وہ کہتے ہیں۔ابنِ صیاد کو دُخّ بھی معلوم نہ ہوتا۔مگر حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم اپنے طور پر بغیر صریح امِر ربّی تشریف لے گئے تھے۔مَیں نے اس حکایت سے یہ فائدہ اٹھایا ہے کہ مباحثہ کبھی اپنی خواہش سے نہیں کرنا چاہیئے اور کبھی پہل نہ کرو۔چنانچہ میرا معمول ہے۔کہ جب بات گلے پڑ جائے۔تو پھر میں اﷲ سے دعا مانگتاہوں۔اور خدا کے فضل سے ہمیشہ کامیاب ہوتا ہوں۔اور مجھے کوئی ایسا واقعہ یاد نہیں کہ میں نے کسی مباحثہ میں زَک اٹھائی ہو۔مامورین کی جُدابات ہے۔انہیں تو اﷲ کے حکم سے بعض وقت چیلنج کرنا پڑتا ہے۔مگر غور سے دیکھا جائے تو ابتداء ان کی طرف سے بھی نہیں ہوتی۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۵ماہ فروری ۱۹۱۲ء)  : اس آیت کے شانِ نزول میں لکھا ہے۔مکّے میں جب قحط نہایت سخت پڑا۔ابوسفیان آپؐ کے پاس آئے اور کہا تو صلہ رحمی کا حکم کرتا ہے۔اور دیکھ تیرے باعث ہم