حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 54 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 54

۱۱۱۔   اس کے سوا نہیں کہ میں تم سا ایک بشر ہوں۔مجھے حکم ہوتا ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے پس جو کوئی اپنے ربّ کی ملاقات کا امیدوار ہے وہ عمل نیک کرے اور اپنے ربّ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ ملا وے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۳۵) جب دو یا کئی چیزیں باہم کسی امر میں شریک ہوتی ہیں اور کسی امر میں مختلف ہوتی ہیں تو ظاہر ہے کہ امرِ مشترک کے احکام میں ان مشترکہ اشیاء کو اتحاد ہو گا۔اور جن جن باتوں میں ان چیزوں کو باہمی اختلاف ہوتا ہے ان باتوں میں جو جو احکام ہوں گے ان میں بھی اختلاف ہو گا۔مثلاً حیوانات و نباتات جسمیّت اور نموّمیں باہم شریک ہیں۔مگر حیوانات تحرک بالارادہ۔خور د۔نوش وغیرہ اوصاف میں نباتات سے ممتاز ہیں۔پس حیوانات و نباتات کو جسمیت اور نموّ کے احکام میں بھی شرکت ہو گی۔مگرخور د۔نوش۔جماع وغیرہ احکام میں حیوانات اور نباتات میں اشتراک ہو گا۔بلکہ حیوانات کو ان باتوں اور ان کے احکامات میں امتیاز و خصوصیت ہو گی۔اسی طرح انسان و حیوان کے درمیان کھانے۔پینے جماع کی خواہش میں جس قدر اشتراک ہے اسی قدر کھانے۔پینے۔جماع کے احکام میں بھی اشتراک ہو گا مگر انسان ترقی۔سطوت۔جبروت۔نئے علوم و فنون کی تحصیل اور نئے علوم کو اپنے ابنائے جنس کے سکھلا دینے میں حیوان سے ممتاز ہے۔ان اشیاء کے احکام میں بھی حیوان سے ممتاز ہو گا۔ایسے ہی ہادی۔رسولوں اور عامّہ آدمیوں میںگو عام احکام بشریت کے لحاظ سے اشتراک ہوتا ہے۔رسولوں کا گروہ بخلاف اور عام آدمیوں کے الہٰی ملہم۔مصلح قوم۔مؤید من اﷲ ہوتا ہے۔اس لئے عام احکام بشریت میں اگرچہ عامہ بشر سے اشتراک رکھتے ہیں لیکن اپنی خصوصیتِ رسالت۔نبوّت۔اصلاح قوم کے احکام میں عامہ خلائق سے ضرور جُدا ہوتے ہیں۔بلاتشبیہہ ایک مفتوح ملک کی رعایا کے ساتھ ایک فاتح اور حکمران گورنمنٹ کا سپہ سالار۔مجاز حاکم اپنی گورنمنٹ کے حکم سے کوئی معاہدہ کرے اور اس رعایا کو اپنی گورنمنٹ کے احکام سنا دے۔تو اگر اس مفتوح رعایا کے لوگ ان معاہدات اور احکام کی تعمیل نہ