حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 563
کا پھل تو یہ بداعمال ہو نہیں سکتے۔پھر لامحالہ کفر سے یہ ثمرات ہوں گے۔گو وہ چھوٹا ہی کفر کیوں نہ ہو۔اور کفر فضل کا جاذب نہیں۔بلکہ فضل کو روکتا ہے۔جیسے اندھیری کوٹھڑی کی دیواریں اور چھت سورج کی روشنی کو روکتی ہیں۔پس ایسے شخص میں ضرور جنّت اور نجات کے اسباب اور فضل کے کھینچنے اور لینے کے ذریعے دوزخ میں جانے کے اسباب اور بہشت و نجات میں جانے کی روکیں مل جائیں گی۔اس لئے ایک میزان کی ضرورت پڑی۔مگر یہ میزان دکانداروں کی ترازو سے یا ریلوے والوں کی ماپ تول سے نرالی ہے۔دیکھو ۱۔سموئیل ۲ باب ۳۔یہ ترازو خدا کے عدل اور قدوسیّت کی ترازو ہے۔نیک اعمال کی زیادتی میں ایمان کی قوت ظاہر ہے اس لئے وہ ایمان بڑے فضل کا لینے والا ہوا۔اور مساوات اور کمی کی صورت میں قرآن کی اس امید بھری آیت سے اس لئے وہ ایمان بڑے فضل کا لینے والا ہوا۔اور مساوات اور کمی کی صورت میں قرآن کی اس امید بھری آیت سے (توبہ:۱۰۲) امید ہے کہ خداوندی رحم اس کے غضب پر سبقت لے جاوے اور اس کا فضل بچالے۔اِلَّا یہی فضل کبھی کسی شفیع کو اپنے پہنچنے کیلئے ذریعہ بنا لیتا ہے۔اہلِ اسلام میں بے اذن شفاعت ثابت نہیں۔اور جب اذن سے شفاعت ہوئی۔تو وہ شفاعت حقیقت میں فضل ہو گیا۔یہی فضل نجات کا باعث ہے اور اس بِالاِذن شفاعت کا ثبوت جسے خدا کے رحم اور فضل نے گنہگار کے بچانے کیلئے تحریک دی۔قرآن میں یہ ہے۔ (نساء:۶۵) یاد رکھو جب نیک اعمال کثرت سے نہیں ہوتے۔اور ایمانی قوّت کا قوی ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس وقت بڑے فضل کو یہ چھوٹا سا ایمان نہیں کھینچ سکتا اور فضل لینے کے سبب میں کمزوری ہوتی ہے اس لئے باری تعالیٰ کا رحم اور کرم چھوٹے سے ایمان کے ساتھ کسی شفیع کی شفاعت اور داعیوں کی دعا کو ملا دیتا ہے اور اسی کمزور ایمان کو اس ذریعہ سے قوّت دیکر فضل کے لائق بنا دیتا ہے۔بلکہ صرف ایمان ہی ابدی سزا سے بچانے کیلئے اس فضل کو لے لیتا ہے۔جس کے ساتھ انسان درزخ کی ابدی سزا سے بچ جاوے! پادری صاحب! پولوس بھی کیا کہتا ہے۔پھر اگر فضل سے ہے تو اعمال سے نہیں۔نہیں تو فضل فضل نہ رہے گااور اگر اعمال سے ہے تو پھر فضل کچھ نہیں۔نہیں تو عمل عمل نہ رہے گا۔نامۂ رومیاں ۱۱ باب ۶۔پادری صاحبان! آپ کو عہدِ جدید میں دکھلا دیا کہ آپ کا یہ سوال کہ نجات اعمال سے ہے یا شفاعت سے کیسا کمزور ہے۔نجات نہ اعمال سے ہے نہ شفاعت سے۔نجات صرف خدا کے فضل سے ہے۔