حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 558
یہاں بھیقرآن مجید ہے۔آگے چل کر تیسرے مقام پر فرمایا۔۔یہاں کیوں قرآنِ مجید مراد نہ ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید میں انسان کے تنزّل و ترقی کی گھڑیوں کا علم ہے۔اور اس میں بتایا گیا ہے کہ قومیں کیونکر بنتی اور بگڑتیہیں۔پس تو اے قرآن پڑھنے والے ان میں شک نہ کرو کیونکہ یہ بہت ہی قطعی اور صحیح اور سچی باتیں ہیں۔اگر یہ ضمیر عیسیٰ کی طرف پھیری جائے تو یہ خرابی پڑتی ہے کہ علمٌ صفت ہے اور مبتدا کی خبر صفت نہیں ہو سکتی اور پھر اس کا بھی سے فیصلہ ہو گیا۔کہ عیسیٰ علیہ السلام اور وہ خد اکے پاس ہے۔اور تم بھی اے مخاطبو! اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے۔ اور اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ سے ظاہر ہے کہ اﷲ کے پاس زندہ بجسدہ العنصری موجود نہیں بلکہ جس طرح اور ابرارمر کر جاتے ہیں۔اُسی طرح وہ بھی چلا گیا۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۳ صفحہ۱۳۴ماہ مارچ ۱۹۱۲ء) اس سوال کے جواب میں کہ ’’ ابنِ مریم قیامت کی نشانی ہیں یا علامت اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہیں اور قریبِ قیامت آ ویں گے‘‘ فرمایا۔اوّل یہاں علم کا بہِ عین مکسور ہے۔جس کے معنے یہ لوگ علامت یا نشانی کہتے ہیں حالانکہ وہ لفظ جس کے معنے علامت یا نشانی ہے۔عَلم بہ عین مفتوح ہے سو اوّل تو ان کی خاطر لُغت کو محرّف مبدّل کیا جاوے تو ان کے معنے تسلیم کئے جاویں۔دومؔ یہاں لفظ ساعت کا ہے جس کے معنے قیامت کے کئے جاتے ہیں حالانکہ یہ لفظ عذاب اور گھڑی یعنی وقت کے معنوں پر آتا ہے اور قیامت صغرٰی یعنی ایک قوم کی موت یا تباہی پر بھی استعمال ہوتا ہے۔کوئی خصوصیت اسے قیامتِ کبٰری سے نہیں اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ اِنَّہٗ کی ضمیر ابن مریم کی طرف ہے۔تو اس کے معنے یہ ہوئے کہ ابنِ مریم کے ذریعہ اُس عذاب کی گھڑی کا علم حاصل ہوتا ہے۔جو کہ یہودیوں پر آنا ہے۔چنانچہ ابنِ مریم کے بعد یہودی طیطوس رومی کے ہاتھوں سخت تباہ و برباد ہوئے۔سومؔ یہاں ابنِ مریم کو ساعت کا علم کہا گیا ہے اور اسی سورت کے اگلے رکوع ۱۳ میں لکھا ہے۔۔یعنی ساعت کا علم خدا کے پاس ہے اور تم نے اسی کے پاس جانا ہے۔تو جب ساعت کا علم خدا کے پاس ہوا تو جو شئے ساعت کا علم ہو گی وہ خدا کے پاس ہو گی۔پس اگر ابن مریم ساعت کا علم ہے تو اسے خدا کے پاس ہونا چاہیئے مگر کس طرح جیسے کہ ہم نے بھی خدا کے پاس ہونا ہے