حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 557
یہ غلط خیال ہے کہ نبیوں نے اس وقت مقابلہ کیا جب ان کا جتھا ہو گیا… حضرت موسٰیؑ کیسی حالت میں تھے۔فرعون نے کہا۔۔انکی تمام قوم غلام تھی مگر ایک آواز سے سب کام کروا لیا۔ (یونس:۸۹) نبیوں کو۔خدا کے پاک لوگوں کو جتھوں کی کیا پرواہ ہے۔انبیاء کے نزدیک ایسا خیال شرک ہے۔(بدر ۴؍نومبر ۱۹۰۹ء صفحہ۱) فرعون نے موسٰی کی تبلیغ سن کر کہا(المؤمنون:۴۸)اس کی قوم تو ہماری غلام رہی ہے۔۔یہ کمینہ ہے۔اور بولنے کی اس کو مقدرت نہیں۔اور ایسا کہا کہ اگر خدا کی طرف سے آیا ہے تو کیوں اس کو سونے کے کڑے اور خلعت اپنی سرکار سے نہیں ملا۔(الحکم ۲۴؍جنوری ۱۹۰۲ء صفحہ۶) …الخ: کنگن اس کے زمانہ میں عزّت کا نشان تھا جیسے ہندوستان کی ہندو ریاستوں میں اب بھی ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۸) ۵۷۔ مثلاً نیک نمونہ۔اچھی صفتوں والا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۰ستمبر ۱۹۱۳ء) ۶۱،۶۲۔ : یہ قرآن کہ اس میں قیامت کا خوب بیان ہے۔اگر مسیحؑ کی طرف ضمیر پھرتی ہے تو آگے فرمایا۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۰ستمبر ۱۹۱۳ء) : سورۃ زخرف کو اگر غور سے مطالعہ کیا جاوے تو صاف کُھل جاتا ہے۔کہ کی ضمیر قرآن مجید کی طرف راجع ہے چنانچہ شروع سورۃ میں ہے۔۔ ۔یہ قرآن مجید ہے۔پھر اس سے آگے اسی سورۃ میں دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے۔