حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 53
ہم بتا دیں تم کو کن کے کئے اکارت ہیں وہ لوگ جن کی دوڑ دنیا کی زندگانی میں۔بھٹک رہے ہیں اور وہ لوگ جانتے ہیں کہ خوب بناتے ہیں کام۔وہ ہی ہیں جو منکر ہوئے اپنے ربّ کی نشانیوں سے اور اس کے ملنے سے مٹ گئے۔اُن کے کئے۔پھر نہ کھڑی کریں گے ہم ان کے واسطے قیامت کے دن تول۔( فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۵) اور اسی واسطے ہماری قصص کی کتابوں میں ان کود رازگوش لکھا ہے۔کیونکہ درازگوش احمق کو کہتے ہیں اور الہٰیات میں جو ضروری چیز ہے۔ان کی عقل اُس پر ہرگز رسا اور پوری نہیں۔گویا الہٰیات سے ان کی کھوپڑیوں کو مناسبت ہی نہیں۔اور جو اسلامی کتب میں کثرتِ اولاد یاجوج کی نسبت لکھا ہے وہ بالکل سچ ہے دیکھو باایں کہ لندن سے ہزاروں باہر نکل جاتے ہیں۔تب بھی چھتیس ۳۶ لاکھ کے قریب ایک شہر میں ہیں۔( فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۵) : مستہلک ہو گئیں۔دیکھو کس قدر ایجادیں ہو رہی ہیں۔مگر وہ تمام جسمانی راحتوں کے متعلق ہیں۔روحانیات سے بہرہ نہیں۔ان کی ساری کوششیں اس دنیا کی زندگی میں خرچ ہو گئی ہیں۔میں نصیحت کرتا ہوں کہ تم روپیہ جمع کرنے کا خیال چھوڑ دو۔کہ اس کا انجام سوائے دُکھ و مشکلات کے نہیں۔: اس قوم نے کاریگروں کو وہ حُسن دیا ہے کہ بائد و شاید۔پسنہاری کا پیشہ کیسا ذلیل ہے۔مگر دانے پیسنے کی کلوں نے اسے کیسا معزز بنا دیا کہ آج مِلر لوگ بڑے معزز امراء اور رائے بہادر کہلاتے ہیں۔لوہار بھی کمین ہی سمجھے جاتے تھے مگر اب تو جواعزازواکرام آئرن ورکس والے رکھتے ہیں۔وہ ظاہر ہے۔جرّاحی حجاموں کے سپرد تھی۔مگر اب تو سرجن کہلاتے ہیں۔جولاہے بھی ذلیل تھے۔مگر اب تو یہ پیشہ ایسا معزّز ہوا کہ ملکوں کو خرید سکتے ہیں… یہ سب آیات اشارہ کرتی ہیں کہ دجّال ایک کاریگروں کی قوم کا نام ہے۔: ان کے اعمال کو ترازو میں تولنے کی ضرورت نہ ہو گی۔سب کچھ اس دنیا میں لے چکے…‘‘ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲،۱۶۳)