حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 553 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 553

۔میاں یہ قرآن شریف تو مکّہ یا طائف کے کسی بڑے نمبردار پر نازل ہونا چاہیئے تھا۔اپنی نگاہ و نظر میں وہ یہی سمجھتے تھے کہ قرآن شریف اگر نازل ہو تو کسی نمبردار پر نازل ہو۔کیونکہ ان کی نگاہوں کی منتہا تو وہ نمبرداری ہو سکتی تھی۔پس یہی حال ہے کہ انسان اپنی اٹکلوں سے کام لینا چاہتا ہے حالانکہ ایسا اس کو نہیںکرنا چاہیئے۔بلکہ جس معاملہ میں اس کو کوئی علم اور معرفت نہیں ہے۔اس پر اسکو رائے زنی کرنے سے شرم کرنی چاہیئے۔اس لئے پاک کتاب کا حکم ہے کہ لَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ناواقف دنیا اپنی تدبیروں سے جو انتخاب کرنا چاہتی ہے وہ منظور نہیں ہو سکتا۔سچا انتخاب وہی ہے جس کو اﷲ تعالیٰ کرتا ہے۔چونکہ انسانی عقل پورے طور پر کام نہیں کرتی۔اور وہ فتوٰی نہیں دے سکتی کہ ہمارا کیا ہوا؟ انتخاب صحیح اور مفید ثابت ہو گا یا ناقص۔اس لئے انتخاب ماموریت کیلئے اﷲ تعالیٰ ہی کا کام ہے۔(الحکم۱۷؍فروری ۱۹۰۱ء صفحہ۵) مشکلات پیش آنے کا یہ باعث ہوا کرتا ہے کہ انسانی طبائع کسی کا محکوم ہونے میں مضائقہ کیا کرتے ہیں۔چنانچہ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری حکومت کو یہ لوگ طوعاً اور کرھاً مانتے ہیں۔پس جب خدا کی حکومت کا یہ حال ہے تو پھر جب انبیاء علیہم السلام کی حکومت ہوتی ہے اس وقت لوگوں کو اور بھی اعتراضات سُوجھتے اور کہتے ہیں کہ وحی کا مستحق فلاں رئیس یا عالم تھا۔اس سے ظاہر ہے کہ لوگ رسول کی بعثت کیلئے خود بھی کچھ صفات اور اسباب تجویز کرتے ہیں۔جس سے ارادہ الہٰی بالکل لگاؤ نہیں کھاتا۔علیٰ ھٰذاالقیاس۔جب رسول کے خلیفہ کی حکومت ہو تب تو ان کو مضائقہ پر مضائقہ اور کراہت پر کراہت ہوتی ہے۔(الحکم ۱۰؍جنوری۱۹۰۵ء صفحہ۱۱) ۳۳۔   کیا یہ لوگ الہٰی فضل کی خود تقسیم کرتے ہیں حالانکہ دیکھتے ہیں کہ وجہ معاش میں ہم نے ان کو خود مختار