حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 549 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 549

ہندوستان میں بارہ ریاستیں ہمارے دیکھتے دیکھتے تباہ ہو گئی ہیں۔کئی معزز گھرانے مرتد اور بے دین ہو گئے ہیں۔اسلام پر اعتراضات کا آرہ چلتا ہے۔مگر کسی کو گھبرا نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی کہ لوگ اپنے اپنے نفسانی ہمّ و حزن میں مبتلا ہیں اور سچّے اسباب اور ذرائع ترقی کی تلاش سے محروم و بے نصیب ہیں۔پس دعا کرنی چاہیئے کہ اﷲ تعالیٰ عجز سے بچاوے اور بقدرِفہم و فراست تہیأ اسباب کرنا ضروری ہے اور پھر اس کے ساتھ مشورہ کرنا چاہیئے۔قرآن شریف کا حکم ہے کہ ۔مشورہ کرنا ایسا پاک اصول ہے۔کہ اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصرت اور برکت عطا ہوتی ہے اور انسان کو ندامت نہیں ہوتی مگر خودپسندی اور کبِر ایسی امراض ہیں کہ انہوں نے شیطان اور انسان دونوں کو ہلاک کر دیا ہے۔دیکھو ہر انسان ایسی پختہ عقل اور فہم رسا کہاں رکھتا ہے کہ خود بخود اپنی عقل سے ہی ساری تدابیر کر لے۔اور کامیاب ہو جاوے۔یہ ہر ایک انسان کا کام نہیں۔اسی واسطے مشورہ کرنا ضروری رکھا گیا ناتجربہ کار تو ناتجربہ کار ہی ہے۔مگر اکثر اوقات بڑے بڑے تجربہ کار بھی مشورہ نہ کرنے کی وجہ سے سخت سے سخت ناکامیوں میں مبتلا ہو کر بڑی بڑی ندامتیں برداشت کرتے ہیں۔پس خود کو موجودہ ناکامیوں کے بہت فکروں میں ہلاک نہ ہونے دو۔اور نہ گزشتہ کاہلیوں اور فروگزاشتوں کے خیال سے اپنے آپ کو عذاب میں ڈالو۔بلکہ سچے اسباب کی تلاش کرو اور مشوروں سے کام لو۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ۶) ۴۱۔  اور برائی کا بدلہ برائی ویسی ہے۔پھر جو کوئی معاف کرے اور سنوارے سو اس کا ثواب ہے اﷲ کے ذمّے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۵۴) : جس نے درگزر کی اور سنور گیا تو اس کا اجر اﷲ پر ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۳۶) ۵۲۔