حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 547
کوئی پیارے سے پیارا مر جائے تو اس ارحم الرّاحمین کو ظالم کہتے ہیں۔بارش کم ہو تو زمیندار سخت لفظ بک دیتے ہیں اور اگر بارش زیادہ ہو۔تب بھی خدا تعالیٰ کی حکمتوں کو نہ سمجھتے ہوئے بُرا بھلا کہتے ہیں۔اس لئے ہر آدمی پر حکم ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی تنزیہ و تقدّس و تسبیح کرے۔آپ کے کسی اسم پر کوئی حملہ کرے تو اس حملہ کا دفاع کرے۔(الفضل ۲۳؍جولائی ۱۹۱۳ء صفحہ۱۲) ہر شریف الطبع آدمی دوسرے کو کسی مصیبت میں مبتلا پا کر عبرت پکڑتا ہے۔شریف مزاج لڑکوں کو جب نصیحت کرتے ہیں تو کسی اور کا حوالہ دیتے ہیں کہ فلاں نے ایسا کام کیا تو یہ سزا پائی۔اس سے یہ نتیجہ نکلا۔کہ ہر ایک شریف انسان دوسرے سے عبرت پکڑتا ہے۔ہم کس قدر دُکھیاروں کو دیکھتے ہیں تو قرآن کریم کے مطابق۔ہر ایک کو اپنے کئے ہوئے کی سزا ملتی ہے۔جو کچھ تم کو مصیبت آئی۔تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تم کو ملی۔میں نے کبھی کسی مومن کو نمبر دس کا بدمعاش نہیں دیکھا۔نہ ہی نیک اعمال والے کو آتشک کا شکار ہوتے دیکھا۔اس طرح ہر قسم کی بیماریوں اور مصیبتوں کا یہی حال ہے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ایک استاد صاحب سے ایک جذامی علاج کرایا کرتا تھا۔اس کی تنخواہ تیس ہزار روپے تھی۔گویا ایک ہزار روپیہ یومیہ وہ پاتا تھا۔ایک دن وہ استاد صاحب کے پاس آیااور کہنے لگا کہ حضور نے بیسن کی روٹی کھانے کیلئے فرمایا ہے۔وہ نگلنی مشکل ہے۔اگر حکم ہو تو کچھ لقموں کے بعد ایک ڈلی مصری کی بھی کھا لیا کروں۔میرے استاد صاحب نے بڑے زور سے فرمایا کہ نہیں۔ہرگز نہیں ہو سکتا۔وہ آدمی بڑا مہمان نواز تھا۔مگر اس وقت وہ روپیہ اس کے کام نہ آ سکا۔اسی طرح دیکھتے ہیںکہ مسلول و مدقوق کی حالت جب ترقی کر جاتی ہے تو دوسرے آدمی پاس بیٹھنے۔کھانے پینے وغیرہ سے مضائقہ کرتے ہیں۔یہ جسمانی بیماری کا حال ہے۔اسی طرح روحانی بیماری کا حال ہے۔سننے والو! ظاہر کو باطن سے تعلق ہوتا ہے۔اور باطن کو ظاہر سے رشتہ ہے۔غور کرو۔(میں دیکھتا ہوں) ایک دوست کو دیکھ کر میرے دل کو سرُور ملتا ہے۔اور دیکھتے ہی دل خوش ہو جاتا ہے۔اس کا دیکھنا جو ظاہری ہے۔اس نے باطن میں جا کر دخل پایا۔اسی طرح ایک دشمن کو دیکھ کر میں خوش نہیں ہوتا۔بلکہ اس وقت میرے دل کی حالت کچھ اور ہوتی ہے۔یہ اس باطن کی رنجیدگی سے ظاہر پر اثر ہوتا ہے۔اور اس کے آثار میرے چہرے پر اورہر میرے اعضاء پر بھی نمودار ہوتے ہیں۔پھر غصّہ میں آ کراسے کچھ نہ کچھ ناگوار لفظ بول دیتے ہیں۔اس سے یہ قاعدہ نکلا کہ باطن کو ظاہر کے ساتھ اور ظاہر کو باطن کے ساتھ تعلق ضرور ہوتا ہیتو یہ معاملہ صاف ہے کہ انسان کا اندرونہ اور بیرونہ کچھ عجائبات سے باہم پیوست ہوتا ہے۔(الفضل ۱۵؍اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ۱۵)