حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 546 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 546

پاکیزہ ہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۴ صفحہ۱۷۸۔۱۷۹ماہ اپریل ۱۹۱۲ء) : تم پیار کرو ان کاموں میں جو قربِ الہٰی کا موجب ہیں یا یہ کہ اپنے رشتہ داروں میں محبت بڑھاؤ۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۰) ۳۱۔  جب ہمارے نبی کریم اور رسول رؤف رحیم صلی اﷲ علیہ وسلم مکّہ معظمہ سے مدینہ طیّبہ میں رونق افروز ہوئے۔تو چند وشٹ۔منافق۔دل کے کمزور جن میں نہ قوّتِ فیصلہ تھی۔اور نہ تاب مقابلہ۔آپ کے حضور ہوئے اور بظاہر مسلمان ہو گئے اور آخر بڑے بڑے فسادوں کی جڑ بن گئے۔وہ مسلمانوں میں آ کر مسلمان بن جاتے اور مخالفانِ اسلام کے پاس پہنچتے تو مسلمانوں کی بدیاں کرتے۔… سردست جماعت اسلام تعداد میں بہت ہی قلیل اور تھوڑی سی ہے اور مسائل اسلام بھی جو پیش ہوئے ہیں۔بہت کم ہیں۔یہ بدبخت منافق اگر اس قلیل جماعت کے سامنے تابِ مقابلہ نہیں لا سکتے اور اپنے دل کی مرض سے بزدل ہو کر مسلمانوں کی ہاں میں بظاہر ہاں ملاتے ہیں تو یاد رکھیں۔ان کا یہ کمزوری کا مرض اور بڑھے گا کیونکہ یہ جماعت اسلام روز افزوں ترقی کرے گی اور یہ موذی بدمعاش اور بھی کمزور ہوں گے اور ہوں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔نیز اسلام کے مسائل روز بروز ترقی کریں گے۔جب یہ لوگ تھوڑے سے مسائل کا فیصلہ نہیں کر سکتے تو ان مسائل کثیرہ کا کیا فیصلہ کر سکیں گے جو یوماً فیوماً روز افزوں ہیں۔بہر حال ان کا مرض اﷲ تعالیٰ بڑھائے گا اور اسلام کو ان کے مقابلہ میں ترقی دے گا۔ہاں رہی یہ بات کہ یہ سزا ان کو کیوں ملی تو اس کا جواب یہی سچ ہے کہ ان کے اپنے اعمال کا بد نتیجہ تھا۔اس میں قرآن کریم کا ارشاد یہ ہے۔… یعنی تمہیں ہر ایک مصیبت اپنے ہاتھوں کی کرتوت کے سبب سے پہنچتی ہے۔عمدہ غذا۔ہوا اور بہار کا مزہ تندرست کو ملتا ہے۔نہ بیمار کو۔یہ قانونِ قدرت ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ۶۷۔۶۸) میں نے بعض نادانوں کو دیکھا ہے۔جناب الہٰی اپنی کامل حکمت و کمالیت سے اس کے قصور کے بدلے سزا دیتے ہیں اور وہ سزا اس کی شامتِ اعمال سے ہی ہوتی ہے۔جیسے فرمایا۔ تو وہ شکایت کرنے لگ جاتے ہیں۔مثلاً کسی کا