حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 545 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 545

ہم اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتے ہیں کہ وہ جمیع صفاتِ کاملہ سے موصوف اور تمام بدیوں سے منزّہ ہے وہ اپنی ذات میں۔اپنے صفات میں۔اسماء اور محامد اور افعال میں واحد لا شریک ہے۔وہ اپنی ذات میں یکتا۔صفات میں ہمتا اور افعال میں اور بے نظیر ہے۔(الحکم ۲۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ۳) : اس کے مانند کوئی نہیں اور وہ ہے سُنتا دیکھتا۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۲۶) میں جس ایمان پر قائم ہوں وہ و ہی ہے جس کا ذکر میں نے لَآ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُمیں کیا ہے۔میں اﷲ کو اپنی ذات میں واحد۔صفات میں یکتا اورافعال میں  اور حقیقی معبود سمجھتا ہوں۔(بدر ۳۱؍مارچ۱۹۱۰ء صفحہ۴) ۲۴۔   :آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بارہا اعلان فرمایا لَآٍ کہ میں اس تبلیغ پر کوئی اجر نہیں مانگتا۔ہاں مَوَدَّۃ چاہتا ہوں۔لوگوں نے اس کے معنے کئے ہیں۔حضرت امام حسینؓ اور سیّدۃ النساءؓ سے محبت کرو۔یہ بات تو بہت اچھی ہے۔مگر یہ سورۃ مکّی ہے اور اس وقت امام حسینؓ پیدا نہیں ہوئے تھے۔حضرت ابن عباسؓ نے اس کے خوب معنے کئے ہیں کہ تمام عرب آپس میں خانہ جنگیاں چھوڑ کر اتّحاد و مودّت پیدا کر لو۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہر قوم میں رشتہ تھا پس آپ نے فرمایا۔ان خانہ جنگیوں کو چھوڑ کر مودّت اختیار کر لو۔کہ اس میں بھی تمہارا ہی بھلا ہے۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ جو چیزیں تمہیں اﷲ کے نزدیک کرتی ہیں ان کی محبت پیدا کرو اور ان کے حصول کی کوشش و آزرو میں لگ جاؤ۔اور تیسرے معنے یہ ہیں کہ اﷲ قربت حاصل کرنے کی محبت رکھو۔تینوں معنے صحیح اور