حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 539 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 539

۔جن لوگوں نے اپنے قول و فعل سے بتایا کہ ہمارا رب اﷲ تعالیٰ ہے۔پھر انہوں نے اس پر استقامت دکھائی۔ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے۔کہ نزولِ ملائکہ سے پہلے دو باتیں ضروری ہیں۔کا اقرار اور اس پر صدق و ثبات اور اظہارِ استقامت۔ایک نادان سُنت اﷲ سے ناواقف ان مراحل کو تو طے نہیں کرتا اور امید رکھتا ہے اس مقام پر پہنچنے کی جو ان کے بعد واقع ہے۔یہ کیسی غلطی اور نادانی ہے۔اس قسم کے شیطانی وسوسوں سے بھی الگ رہنا چاہیئے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں استقامت اور عجز کے ساتھ قدم اٹھاؤ۔قویٰ سے کام لو۔اس کی مدد طلب کرو۔پھر یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔کہ تم بھی اﷲ تعالیٰ کے فضل کے وارث ہو جاؤ اور حقیقی رؤیا اور الہام سے حصّہ پاؤ۔(الحکم۱۰؍اپریل۱۹۰۵ء صفحہ۶) خوش قسمت وہی ہے جو ان باتوں سے فائدہ اٹھائے۔جذباتِ نفس پر قابو رکھ کر خدا تعالیٰ کے احکام پر عمل کرے۔مساکین اور یتامیٰ کو مال دیوے۔قسم قسم کے طریقوں سے رضا جوئی اﷲ تعالیٰ کی کرے۔ایک وقت کا عمل دوسرے وقت کے عمل سے بعض دفعہ اتنا فرق رکھتا ہے کہ اوّل مہاجرین نے جہاں ایک مُٹھی جَو کی دی تھی۔بعد میں آنے والا کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا دیتا تھا تو اس کی برابری نہ کر سکتا تھا۔سائل کو دو۔دُکھی کو دو۔ذوی القربیٰ کو دو۔نماز سنوار کر پڑھو۔مسنون تسبیح اور کلام شریف اور دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں بھی عرض معروض کرو تاکہ دلوں پر رقّت طاری ہو۔غریبی میں۔امیری میں۔مشکلات میں۔مقدمات میں۔ہر حالت میں مستقل رہو اور صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔تقویٰ کا ابتداء دعا۔خیرات اور صدقہ سے ہے اور آخر ان لوگوں میں شامل ہونے سے ہے۔جن کی نسبت فرمایا ہے۔۔جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اﷲ ہے اور پھر استقامت دکھلائی۔(بدر ۱۳؍دسمبر ۱۹۰۶ء صفحہ۹) نیکی کی تحریک کیلئے ملائکہ بڑی نعمت ہیں وہ انسان کے دل میں نیکی کی تحریک کرتے ہیں۔اگر کوئی ان کے کہنے کو مان لے تو اس طبقہ کے جو ملائکہ ہیں وہ سب اس کے دوست ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں فرمایا۔(آیت:۳۲) ایسی پاک مخلوق کسی کی دوست ہو اور کیا خواہش ہو سکتی ہے۔(الحکم۷،۱۴؍جون ۱۹۱۱ء صفحہ۶) انسان کو بیٹھے بیٹھے کبھی نیک اور کبھی بد ارادے پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ کیوں ہوتے ہیں۔جبکہ