حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 537 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 537

انسانی آرام اور آسائش کے سامان مہیا ہوئے۔ایک دن ان اشیاء کی پیدائش کا اور دوسرا دن ان اشیاء کی ترتیب کا۔غرض دو دن پہلے اور دو دن یہ کل چار روز زمین کی درستی کی ہوئی۔اسی طرح زمین کی ۱؎ چٹانیں ROCKS بالائی فضا اور زمین کی سقف اور زمین کی بناء۔آسمان کو اﷲ تعالیٰ نے دو روز میں بنایا اور ان میں امرِ الہٰی کی وحی ہوئی اور وہ وقت آ گیا کہ انسان زمین پر آباد ہوں۔کیونکہ جیسے قرآن کریم نے فرمایا ہے۔انسان کی تمام ضرورتیں اور اس کیلئے سب مَایُحْتَاجُ پورا ہو گیا۔اس تکذیب بر اہین سے غالباً پہلے کا ذکر ہے۔میرے ایک پیارے عزیز نے مجھ سے اسی آیت پر سوال کیا کہ اﷲ تعالیٰ کو قرآن میں القادر یعنی قادرِ مطلق کہا ہے اور وہ تمام زمین اور آسمان کو ایک آن میں پیدا کر سکتا ہے۔کیونکر مان لیا جاوے۔آسمان و زمین کو اس نے چھ دن میں بنایا ہو۔اس وقت ایک جوار کا کھیت سامنے لہلہا رہا تھا۔میں نے تھوڑی دیر سکوت کر کے پوچھا۔اس کھیت کا دانہ کب تک تیار ہو کر کھانے کے قابل ہو گا؟ اس عزیز نے جواب دیا۔کئی مہینے کے بعد پک کر کھانے کے قابل ہو گا۔تب میں نے کہا اس کے دانہ کو کون بناوے گا۔اس نے جواب دیا۔وہی۔جسے القادر۔قادرِ مطلق۔سرب شکتیمان۔جگدیشر کہتے ہیں۔میں نے کہا ایک کُنْ میں سب کچھ پیدا کر سکتا ہے۔کیونکر مانا جاوے کہ وہی ایسی قدرت والا دانوں کے بنانے میں اتنی دیر کرے۔تب اس عزیز نے کہا۔صاحب یہ اس کی خواہش۔اچھا۔اس کی مرضی ہے۔اور ساتھ ہی ہنس دیا اور کہا کہ جواب ہو گیا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۱۵ تا ۲۲۲) ۱۸۔  جو ثمودتھے سو ہم نے ان کو راہ بتائی اور پھر ان کو خوش لگا اندھے رہنا۔سوجھنے سے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۵۹،۱۶۷) ۲۴۔