حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 51
والے کچھ کچھ تو ان زبردست پیشین گوئیوں کی صداقت کا لحاظ کر کے الہامی کتابوں کی بے ادبیوں سے باز آویں اور غور کریں کہ یاجوج کے باہمی فساد کا کب اور کس حالت اور کس زمانے میں ذکر کیا گیا۔جس کا ظہور آج آنکھ سے مشاہدہ کر رہے ہیں اور یاجوج اور ماجوج دونوں قوموں کی نسبت بعض مصنفوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ درازگوش ہیں۔اس فقرہ کے سمجھنے میں بہت لوگوں نے جو مقدّس کتابوں کے طرزِ کلام سے بالکل ناآشنا ہیں۔کئی غلط نتیجے نکالے ہیں مگر وہ یاد رکھیں کہ درازگوش گدھے کو کہتے اور جو آدمی علم کے مطابق عمل نہ کرے۔اسے بھی الہامی زبان میں گدھے سے تشبیہہ دی گئی۔دیکھو قرآن میں آیا ہے۔(الجمعہ:۶)اور ظاہر ہے کہ روس اور انگریز۔جرمن اور ڈنمارک والے الہٰیات کے سچے علوم اور روحانی برکات سے بالکل محروم ہیں۔علم الہٰیات ان کا نہایت کمزور ہے۔اور مجھے پختہ یقین ہے کہ ہمارے علمی مذاق والے آریہ بھی اس کے ماننے سے انکار نہیں کر سکیں گے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۷۰ تا ۷۳) رِ: ایک بگل بجایا جائے اور قومیں آپس میں لڑیں گی۔جَمَعْنَاھُمْ : ہم ان کے درمیان ایک بڑی لڑائی کرا دیں گے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲) ۱۰۱،۱۰۲۔ : دوزخ سامنے ہو گی۔یہ پیشگوئی ہے کہ اس وقت جنگ اسلحۂ آتشباز سے ہو گی۔: دانیال کی کتاب میں پیشگوئی صاف ہے مگر ان کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳۰؍اپریل،۵؍مئی۱۹۱۰ء صفحہ ۱۶۲) ۱۰۳۔