حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 531
اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ سچائی کیلئے اور اﷲ تعالیٰ کی معرفت اور یقین کی راہوں اور علوم حقّہ کیلئے اسی قدر پیاس انسان میں بڑھے گی۔جس قدروہ نیکیوں اور تقویٰ میں ترقی کرے گا۔جو انسان اپنے اندر اس پیاس کو بُجھا ہوا محسوس کرے۔اور فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَھُمْ مِّنَ الْعِلْمِ کے آثار پائے اس کو استغفار اور دعا کرنی چاہیئے۔کہ وہ خطرناک مرض میں مبتلاء ہے جو اس کیلئے یقین اور معرفت کی راہوں کو روکنے والی ہے۔چونکہ اﷲ تعالیٰ کی رضا کی راہیں بے انت اور اس کے مراتب و درجات بے انتہاء ہیں۔پھر مومن کیونکر مستغنی ہو سکتا ہے؟ اس لئے اسے واجب ہے کہ اﷲ کے فضل کا طالب اور ملائکہ کی پاک تحریکوں کا متبع ہو کر کتاب اﷲ کے سمجھنے میں چست و چالاک ہو۔اور سعی اور مجاہدہ کرے۔تقویٰ اختیار کرے تا سچے علوم کے دروازے اس پر کُھلیں! غرض کتاب اﷲ پر ایمان تب پیدا ہو گا۔جب اس کا علم ہو گا اور علم منحصر ہے مجاہدہ اور تقوٰی پر اور فَرِحُوا بِمَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الْعِلْم سے الگ ہونے پر۔(الحکم ۱۷؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ۱۵) یہودیوں کو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی رسالت اور وحی پر ایمان لانے سے جو چیز مانع ہوئی وہ یہی تکبّرِ علم تھافَرِحُوا بِمَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الْعِلْم۔انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہمارے پاس ہدایت کا کافی ذریعہ ہے۔صحفِ انبیاء اور صحفِ ابراہیمؑ و موسٰیؑ ہمارے پاس ہیں ہم خدا تعالیٰ کی قوم کہلاتے ہیں نَحْنُ اَبْنَآئُ اﷲِ وَ اَحِبَّائُہٗکہہ کر انکار کر دیا کہ ہم عربی آدمی کی کیا پرواہ کر سکتے ہیں۔اس تکبّر اور خودپسندی نے انہیں محروم کر دیا اور وہ اس رحمۃ للّعٰلمین کے ماننے سے انکار کر بیٹھے جس سے حقیقی توحید کا مصفّٰی اور شیریں چشمہ جاری ہوا۔(الحکم ۱۰؍اپریل ۱۹۰۵ء صفحہ۶) کتابوں کو جمع کرنے اور ان کے پڑھنے کا شوق جنون کی حد تک پہنچا ہوا ہے۔میرے مخلص احباب نے بسا اوقات میری حالتِ صحت کو دیکھ کر مجھے مطالعہ سے باز رہنے کے مشورے دیئے۔مگر میں اس شوق کی وجہ سے ان کے دردمند مشوروں کو عملی طور پر اس بارہ میں مان نہیں سکا۔میں نے دیکھا ہے کہ ہزاروں ہزار کتابیں پڑھ لینے کے بعد بھی وہ راہ جس سے مولیٰ کریم راضی ہو جاوے۔اس کے فضل اور مامور کی اطاعت کے بغیر نہیں ملتی۔ان کتابوں کے پڑھ لینے اور ان پر ناز کر لینے کاآخری ڈپلومہ کیا ہو سکتا ہے۔یہی کہ فَرِحُوا بِمَا عِنْدَ ھُمْ مِّنَ الْعِلْم۔الحکم ۱۷؍مئی ۱۹۰۵ء صفحہ۶)