حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 530
: کتابوں کے ذریعے بھی سیر فی الارض ہو سکتا ہے۔: تاتاریوں، پٹھانوں نے کتنے ممالک فتح کئے۔پھر ایرانیوں نے اپنی ملکداری کا کہاں تک سکّہ بٹھایا۔کہ اب تک اس کے آثار باقی ہیں۔فارسی زبان اب بھی گاؤں میں پڑھائی جاتی ہے۔مگر آخر تنزّل آیا۔اب وہ طمطراق۔وہ شوکت۔وہ شان کہاں گئی۔خدا جب مٹانے پر آیا تو وہ سازوسامان کچھ بھی کام نہ آیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۲۰) ۸۴۔ اﷲ تعالیٰ کی راہ میں سعی اور جہاد اور تقویٰ اﷲ سے روکنے والی ایک خطرناک غلطی ہے جس میں اکثر لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں اور وہ یہ ہیفَرِحُوا بِمَا عِنْدَ ھُمْ مِّنٰ الْعِلْمِ۔کسی قسم کا علم جو انسان کو ہو وہ اس پر ناز کرے۔اسی کو اپنے لئے کافی اور راحت بخش سمجھے تو وہ سچے علوم اور ان کے نتائج سے محروم رہ جاتا ہے۔خواہ کسی قسم کا علم ہو۔وجدان کا۔سائنس کا۔صرف و نحو یا کلام یا اور علوم غرض کچھ ہی ہو۔انسان جب ان کو اپنے لئے کافی سمجھ لیتا ہے تو ترقیوں کی پیاس مِٹ جاتی ہے اور محروم رہتا ہے۔راست باز انسان کی پیاس سچائی سے کبھی نہیں بُجھ سکتی۔بلکہ ہر وقت بڑھتی ہے۔اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ ایک کامل انسان۔اَعْلَمُ بِاﷲ۔اَتْقٰی لِلّٰہِ۔اَخْشٰی لِلّٰہ جس کا نام محمّد صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔وہ اﷲ تعالیٰ کے سچّے علوم۔معرفتیں۔سچّے بیان اور عمل در آمد میں کامل تھا۔اس سے بڑھ کر۔اعلم۔اتقیٰ اور اخشیٰ کوئی نہیں۔پھر بھی اس امام المتقین اور امام العالمین کو یہ حکم ہوتا ہے قُلْ رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا۔