حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 50
ان سب کو اکٹھا کریں گے۔تفسیر: مکاشفات یوحنا کے بیسویں باب کی ساتویں آیت سے پڑھو اور جب ہزار سال ہو چکیں گے (یہ ہزار سال حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت سے ہیں اور شمسی قمری مہینوں کا حساب ناظرین یہاں سوچ کر کر لیں)اپنی قوم سے چھوٹے گا اور نکلے گا تاکہ ان قوموں کو جو زمین کی (وہی خاص زمین یروشلم اور مکّہ کی زمین ہے ) چاروں کونوں میں ہیں۔یعنی یاجوج اور ماجوج کو فریب دے اور انہیں لڑائی کیلئے جمع کرے۔ان قدیمی نوشتوں اور روس اور انگریز۔جرمن اور فرانس کے تسلّط پر جو ہزار سال ہجری کے بعد سے عرب اور شام کے چاروں کو نوں پر شروع ہوا۔غور کی نگاہ سے دیکھو! اور دیکھو! ۱۶۹۱ء سے کس طرح یہ قومیں اسلامی بلاد پر مسلّط ہو رہی ہیں۔اگر انگریزی تواریخ ہند کچھ صحت رکھتی ہیں اور آریہ قوم بھی انگریزوں سے اعلیٰ نسل میں متحد ہے۔جو بتحقیق لتہہ برج وغیرہ محققان یوروپ مسلّم ہے۔تو یہ بھی ماجوج میں داخل ہیں۔تو ہم آریہ کی اس تیز ترقی کو اپنی مقدس کتابوں کی صداقت ہی یقین کریں گے مگر ہم یقینی رائے قائم نہیں کر سکتے کہ ہندوستانی اور انگریز ایک ہی ہیں۔ہمارا علم اس تحقیق تک پہنچنے سے ابھی تک قاصر ہے۔قرآن کو نازل ہوئے تیرہ سو برس ۱۳۰۰ گزرے اور مکاشفات اور حزقیل نبی کی کتاب کو اور بھی بہت زمانہ گزرا۔مگر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو عالم بالجزئیات والکلیات ہے ان کا ہونا کیسے واضح دلیلوں سے ثابت ہوا۔اب یہ دونوں قومیں یاجوج روس اور ماجوج انگریز کیسے نزدیک نزدیک آ پہنچے ہیں۔اور بہت ہی قریب ہے کہ دونوں آپس میں اُلجھ پڑیں اور قرآن کریم کا یہ فرمانا’’ ‘‘جو ہمیشہ سے صادق ہے تمام آنکھوں کو اپنی سچائی دکھادے۔دیکھو مکاشفات ۲۰ باب ۹’’ اور انہوں مقدّس چھاؤنی اور عزیز شہر کو گھیر لیا۔تب آسمان پر سے خدا کے پاس سے آگ اتری اور ان کو کھا گئی اور تو بڑا اندیشہ کرے گا۔اور تو کہے گا کہ میں دیہات کی سرزمین ( وادی القریٰ مکّہ معظمہ) پر چڑھوں گا۔مَیں ان پر جو چَین میں ہیں اور آرام سے بستے ہیں۔جو شہر پناہیںنہیں رکھتے اور بغیر اڑبنگوں اور پھاٹکوں کے رہتے ہیں حملہ کروں گا تاکہ تو لُوٹے اور مال کو چھین لے۔اور تو اپنا ہاتھ ان ویرانوں پر جواب بسے ہیں اور ان لوگوں پر جو ساری قوموں سے فراہم ہوئے (دیکھو اہل مکّہ و مدینہ) جنہوں نے مال اور مویشی حاصل کئے اور جو زمین کی ناف پر بستے ہیں اپنا ہاتھ چلاوے اور سبا۔دوان اور ترسیس کے سوداگر اور ان کے سارے شیرببر تجھے کہیں گے۔کیا تو غارت کرنے آیا‘‘(حزقیل ۳۸ باب ۱۰۔۱۳) ہم نے یہ واقعات اس لئے لکھے ہیں اور یہ تذکرہ صرف اسی واسطے کیا ہے کہ الہام کی قدر نہ کرنے