حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 521 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 521

ایک دہریہ نے مجھ سے کہا کہ اگر زمین و آسمان کے درمیان پتھر بھر دیئے جاویں تو تمہارا خدا کُجلا جائے۔میں نے کہا احمق کہ ان پر زمانہ گزرتا ہے یا نہیں؟ کہا۔ہاں۔میں نے کہا زمانہ نہ تو مخلوق ہے جب وہ نہیں کُچلا جاتا تو زمانہ سی لطیف چیز پیدا کرنے والا تو بہت ہی لطیف ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۹) ایک عیسائی کے اس اعتراض ’’ ہامان تو موسٰیؑ کی موت کے ڈیڑھ سو برس بعد اخویرس کا وزیر تھا‘‘ ( دیکھوا ستیر ۳ باب) کے جواب میں تحریر فرمایا۔یہ اعتراض ٹھیک ایسا ہی ہے جیسے کوئی عیسائیوں کو کہے۔ساؤل داؤد سے پہلے سموئیل کے وقت بادشاہ ہوا۔مسیح کا رسول کیسے ہو گیا۔یعقوب تو بنی اسرائیل کا باپ اسحٰق کا بیٹا تھا۔مسیحؑ کا بھائی کیونکر بن گیا۔مریم تو موسٰی اور ہارون کی بہن تھی۔مسیحؑ کی ماں کس طرح ہو گئی۔افسوس صد افسوس۔ضد اور ہٹ انسان کو کس طرح موت کے اتھاہ کنویں میں جھکاتی ہے۔مینس اور یمرس نے موسٰی کا مقابلہ کیا ( ۲ تمطاؤس ۳ باب ۸) بتاؤ توریت میں کہاں لکھا ہے کہ موسٰی کا مقابلہ انہی دو آدمیوں نے کیا۔ساؤل یعقوب اور مریم کئی آدمیوں کے نام ہو سکتے ہیں تو کیا ناممکن ہے کہ ہامان فرعون کے افسر کا نام بھی ہو اور خویرس کے وزیرکا بھی۔اگرکہو مینس اور یمرس کا نام گو توریت میں نہیں۔تو تمطاؤس چونکہ الہامی کلام ہے۔اس لئے اس میں ہونا بھی ان کی صداقت کی کافی دلیل ہے۔تو ہم بھی قرآن کو الہامی اور الہٰی کلام مانتے ہیں اور بہت صفائی سے وہی جواب دے سکتے ہیں۔حقیقی جواب: ہامان کے معنے عربی میں محافظ کے ہیں اور یہ وہ شخص ہے جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر متعیّن تھا۔کہ ان سے اینٹیں پکانے کا کام لے۔دیکھو خروج ۵ باب۱۰ حضرت موسٰیؑ اُس شخص کو بھی نصیحت فرماتے تھے اور بنی اسرائیل کے ساتھ حسنِ سلوک کو کہتے تھے قرآن مجید سے بھی یہی پایا جاتا ہے کہ یہ شخص افسر عمارت تھا جہاں فرمایا ہے اور فرعون کا قول جو اس نے ہامان کو کہا۔نقل کیا ہے۔ (فصل الخطاب حصّہ اوّل طبع دوم صفحہ۱۵۵،۱۵۶)