حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 520 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 520

  کفر اور تکبّر اور بد اعمالی کے کسب سے مُہر لگتی ہے۔ان بُری باتوں کو چھوڑ دو۔مہر ہٹی ہوئی دیکھ لو۔خدائے تعالیٰ نے اپنے قانونِ قدرت میں یہ بات رکھ دی ہے۔کہ جن قویٰ سے کام نہ لیا جاوے وہ قوٰی بتدریج اور آہستہ آہستہ کمزور ہوتے جاتے ہیں۔یہاں تک کہ وہ قوٰی جن سے کام نہیں لیاگیا۔اسی طرح سے بیکار اور معطّل رہتے رہتے بالکل نکّمے ہو جاتے ہیں اور ان پر صادق آتا ہے کہ اب ان قویٰ پر اور ان قویٰ کے رکھنے والوں پر مُہر لگ گئی ہے۔ہر ایک گناہ کا مرتکب دیکھ لے۔جب وہ پہلے پہل کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس وقت اس کے مَلکی قویٰ کیسے مضطرب ہوتے ہیں پھر جیسے وہ ہر روز برائی کرتا جاتا ہے۔ویسے آہستہ آہستہ وہ اضطراب اور حیا اور تامّل جو پہلے دن اس بدکار کو لاحق ہوا تھا وہ اڑ جاتا ہے۔تمہیں تعجّب اور انکار کیوں ہے؟ انسانی نیچر اور فطرت اور اس کے محاورے کی بولی پر غور کرو۔شریر اور بد ذات آدمی کو ایک ناصحِ فصیح نہیں کہتا کہ ان کی عقل پر پتھر پڑ گئے۔ان کے کان بہرے ہو گئے۔ان کی سمجھ پر تالے لگ گئے۔کیا ان مجازوں سے حقیقت مراد ہوتی ہے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۶۱) اسی طرح بہکاتا ہے اﷲ اس کو جو ہو زیادتی والا شک کرتا۔وے جھگڑتے ہیں اﷲ کی باتوں میں بغیر سند کے جو پہنچی ان کو۔بڑی بیزاری ہے اﷲ کے یہاں اور ایمانداروں کے یہاں۔اسی طرح مُہر کرتا ہے اﷲہر دل پر غرور والے سرکش کے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۱۶۵) ۳۷۔  : اے ہامان ! میرے لئے ایک محل تیار کر۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۵۶) : تاکہ آسمانی اسباب پر پہنچ جائیں۔یہ اس نے بطورِ تمسخر کہا ہے۔کیونکہ حضرت موسٰیؑ اسے کہتے تھے کہ اس کی فوق الفوق حکومت ہے۔فرعون نے شرارت سے ان تصرّفات کو جسمانی بنا لیا۔اور کہا کہ ایک محل بناؤ تا موسٰی کا خدا اوپر پہنچ کر دیکھیں…