حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 518
اپنی طاقت سے مہیا کر سکتے ہیں۔وہ تو کر لیں۔مگر چونکہ کئی باریک در باریک امور ہوتے ہیں اور کئی عجیب موانع جو کامیابی میں سدّ راہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے دعا کی جاتی ہے۔نیز صحیح اسباب مراد مندی کا علم بھی خدا کے فضل ہی پر موقوف ہے۔میں نے بڑے بڑے گھمسان کے مباحثوں میں جہاں میں تن تنہا تھا اور ہزاروں مخالف ہی مخالف۔اس کے جلولے دیکھے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۸) ۲۹۔ ایک اور بات ہے۔جو انسان کو سچائی کے قبول کرنے سے روک دیتی ہے۔اور وہ تکبّر ہے۔خدا تعالیٰ نے فرما دیا ہے۔کہ متکبّروں کو خدا تعالیٰ کی آیتیں نہیں مل سکتیں۔کیونکہ تکبّر کی وجہ سے انسان تکذیب کرتا ہے۔اور جھٹلانے کے بعد صداقت کی راہ نہیں ملتی ہے۔پہلے تکذیب کر چکتا ہے۔پھر انکار کرتا ہے یاد رکھومفتری کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔پس اپنے اندر دیکھو کہ کہیں ایسا مادہ نہ ہو! کبھی کبھی انسان کی ایک بدعملی دوسری بدعملی کیلئے تیار کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ سے بہت وعدہ کر کے خلاف کرنے والا منافق مرتا ہے۔امام کے ہاتھ پر بڑا زبردست اور عظیم الشان وعدہ کرتے ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدّم کروں گا۔(الحکم۱۷؍اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ۳۔۴) : اس وقت تک اس نے اپنے ایمان کو مخفی رکھا تھا۔: کیا عمدہ پیرایہ نصیحت ہے۔کیسے دل آویز طریقے سے شرم دلائی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۸)