حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 517
کی ایذاء رسانی کی تدابیر و فکر میں لگے ہوئے تھے قرآن کہتا ہے۔ (طارق:۱۶،۱۷) وہ خفیہ داؤں بچھا رہے ہیں اور میں ان کے داؤں کو باطل کرنے کے درپے ہوں۔غرض اسی طرح کسی واقعے کو بیان کرنا زبانِ عرب کا عموماً اور قرآن کا خصوصًا طرز ہے۔ٹھیک ایسا ہی اس آیت میں ہے جس پر اعتراض کیا گیا ہے کہ فرعون نے کہا یا اپنے ہالی موالی سے مشورہ کیا کہ مومنین کے بیٹوں کو مار ڈالو مگر کسی وجہ سے اس کا ارادہ یا قول یا مشورہ صورت پذیر نہ ہوا جسے قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ کفّار کی تدابیر یا داؤں اکارت جانے والا ہے۔یعنی وہ امر وقوع میں نہیں آیا۔بھلا پادری صاحبان اگر قتل والی بات غلط ہے تو کیوں بنی اسرائیل موسٰی اور ہارون کو کہتے ہیں تم نے کیوں فرعون کے ہاتھ میں تلوار دی ہے کہ وَے ہم کو قتل کریں خروج ۵ باب ۲۲ ؟ (فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۳۷ تا۱۳۹) ۲۷۔ دنیا میں بڑی بڑی سلطنتیں ہو گزری ہیں مگر اب ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں ہے۔: قوم کے دینداروں کو اس طریق سے اُکسایا ہے۔یُظْھِرَ: یہ قوم کے امیروں کو برانگیختہ کیا ہے۔کہ دیکھو تمہاری امارت چھن جائے گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۸) ۲۸۔ : بڑے سے بڑے زبردست دشمن کے مقابلہ میں خدا کی پناہ میں آ جانا بڑی بات ہے۔ہر مشکل کے وقت دعا سے کام لو۔دعا کے یہ معنے نہیں کہ اسباب مہیا نہ کریں۔بلکہ جس قدر اسباب