حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 49
باب السین والدال کے صفحہ نمبر۱۷ میں ہے کہ سدِّ یاجوج، ماجوج جس کا ذکر قرآن کریم میں ہے۔وہ ترکوں کی آخری حد پر مشرق وغیرہ میں ہے اور اسکی خبر عام شہرت رکھتی ہے۔سلام ترجمان کی خبر میں اسکا مفصّل بیان ہے۔پھر صاحب مراصدؔنے اس کی تفصیل کی ہے۔غرض ایسی دیواریں ہوئی ہیں۔چین کی دیوار بہت مشہور ہے۔حاجتِ ذکر نہیں۔اور اس کو ہم کسی صورت میں سدّ ذوالقرنین تسلیم نہیں کر سکتے۔اس لئے کہ قرآن کا طرز ہے کہ اہلِ کتاب کے جھگڑوں میں ایسے امور کو بیان کرتا ہے جو غالباً اہلِ کتاب کی کتابوں میں ہوں۔اور اہلِ کتاب کی کتاب دانیال میں ہمیں ذوالقرنین کا حال صاف صاف ملتا ہے۔کسی چینی بادشاہ کا نام ذوالقرنین کتب سابقہ میں اور اسلامی روایات و لغت سے ثابت نہیں۔یورال کی گھاٹیوں میں بھی ایسی دیواروں کا پتہ عرب کے بڑے بڑے جغرافیوں سے ملتا ہے۔۱۔مراصدیاقوت حموی مطبوعہ فرانس ۲۔مسالک الممالک ابواسحٰق ابراہیم الاصَطخری الکرخی مطبوعہ برازیل ۳۔تقویم البلدان سلطان عمادالدّین اسمٰعیل۔پیرس ۴۔نزہۃ المشتاق الادریسی۔۵۔آثار الباقیہ۔احمد بیرونی مطبوعہ جرمن ۶۔مقدمہ ابن خلدون طبع مصر ۷۔المسالک والممالک ابن حوقل( طبع لنڈن) میرے پاس بحمد اﷲ ہیں۔ان میں یہی یاجوج ماجوج کا ذکر ہے۔کتاب البلدان کے صفحہ ۳۔۵۔۹۵۔۱۰۴۔۱۹۳۔۱۹۸۔۳۰۱ اور مسالک الممالک ۶، ۷ بلکہ ستیارتھ صفحہ ۱۹۲ سملاس نمبر۶ فقرہ ۲۳۵ میں شہر پناہ کے بارہ میں بھی حکم ہے۔کہ شہرکے چاروں طرف شہر پناہ رکھنا چاہیئے۔اسی قاعدہ کے موافق اس بادشاہ نے آرمینیہ اور آذربائیجان کے درمیان جیسا بیضاوی وغیرہ مفسروں نے لکھا ہے۔دیوار بنائی بلکہ اَور اور دیواریں بھی ان بادشاہانِ میدوفارس نے بنائیں اور ایسی دیوار کیونکر تعجّب اور انکار کا موجب ہو سکتی ہے۔جبکہ تمہارا منہ سیاہ کرنے کو سینکڑوں کوس کی لمبی دیوار چین میں اب بھی موجود ہے۔بلکہ ہم نے ایک دیوار کانٹے دار جھاڑیوں کی سینکڑوں کوس تک ہندوستان میں صرف سانبھر کی حفاظت کیلئے دیکھی ہے۔اب بتاؤ۔ایسی صاف اور واقعی بات کیااعتراض کا محل ہو سکتی ہے؟ (نور الدّین طبع ثالث صفحہ ۱۹۰تا۱۹۳) ۱۰۰۔ اور اس دن ہم چھوڑ دیں گے کہ وہ آپس میں لڑکٹ مریں۔اور نرسنگا پھونکا جاوے گا پھر ہم