حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 516 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 516

یقین لائے ہیں اُس کے ساتھ اور جیتی رکھو ان کی عورتیں اور جوداؤں ہے منکروں کا سو غلطی میں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ۱۳۷) ایک عیسائی کے اعتراض ٔ ’’ یہ غلط ہے کہ فرعون نے بنی اسرائیل کے لڑکوں کو اس لئے مار ڈالا کہ وہ موسٰیؑ پر ایمان لائے۔بلکہ فرعون نے موسیٰ سے پہلے یہودی لڑکے اس لئے مارے کہ وہ بڑھ نہ جاویں۔خروج ۱ باب ۷‘‘ کے جواب میں فرمایا:۔’’ میں انصافاً اور حقاً کہتا ہوں کہ یہ اعتراض محض نادانی اور قرآن کیطرز اور زبان کے نہ سمجھنے سے پیدا ہوا ہے۔خوب یاد رکھنا چاہیئے کہ صیغہ امر ہمیشہ کسی فعل کے وقوع کو مستلزم نہیں ہوا کرتا۔قرآن کی اس آیت سے یہ کہاں پایا جاتا ہے کہ فرعون نے انہیں قتل کر ڈالا۔نصاریٰ کی عادت میں داخل ہے کہ دھوکہ دہی کے طور پر ایک ترجمہ فرضی اور ذہنی لکھ دیتے ہیں جو اصل کلام منقول عنہ سے کچھ بھی مناسبت نہیں رکھتا۔اس سے بجائے اس کے کہ ان کا مقصود اغوا و اضلال برآوے۔اہلِ انصاف کے نزدیک ان کی اصلیت باطن اور غرض ظاہر ہو جاتی ہے۔اگر زبانِ عرب سے ذرا بھی مَسّ ہو اور قرآنی طرز سے کچھ بھی واقفیت ہو توبادنیٰ تُامُّل آشکار ہو سکتا ہے کہ آیت کا پچھلا حصّہ معترض کے اعتراض کو باطل کئے دیتا ہے کہ ’’ کافروں کاکیدؔ یعنی دھوکے اور فریب کی تدبیریں اکارت ہو جانے والی ہیں‘‘ قرآن مجید کا یہ طرز ہے کہ جب منکروں اور کافروں نے خدا کے کسی برگزیدہ شخص کی نسبت ایذاء رسانی یا قتل وغیرہ کا منصوبہ باندھا اور خفیہ تدبیریں کیں۔مگر بوجہ من الوجوہ ان کی تدبیریں کارگر نہ ہوئیں۔اور وہ برگزیدہ شخص ان کے ابتلاکے دام سے محفوظ رہا۔اُس وقت قرآن اس شخص یا اشخاص کے سلامت رہنے اور دشمنوں کی تدابیر کے کارگر نہ ہونے کو اسی طرح پر لفظ کیدؔ کے اطلاق سے ذکر کرتا ہے کہ انہوں نے تدبیر تو کی اور منصوبہ تو باندھا مگر اُن کا کیدؔ یعنی داؤں نہ چلایا ہم نے چلنے نہ دیا۔نظیراً دیکھو۔حضرت ابراہیمؑ کے واقعہ میں جب دشمنوں نے اُن کو آگ میں ڈالا اور پھونک کر جلا دینا چاہا اور نصرت الہٰیہ سے جو ایسے وقت میں اﷲ تعالیٰ کے خاص بندوں کے شامل حال رہتی ہے حضرت ابراہیمؑ ان کے مکائد اور شر سے محفوظ رہے۔قرآن اس کو اس طرح پر بیان فرماتا ہے۔ (انبیاء:۷۱) انہوں نے اس سے داؤں کرنے کا ارادہ کیا۔پس ہم نے انہیں کو ٹوٹا پانے والا کیا۔اور کفّار مکّہ جس وقت اس بنی نوع انسان کے سچّے خیر خواہ رؤف و رحیم ہادی محمد مصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم