حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 515
اﷲ تعالیٰ کو پکارو۔اس کی عبادت میں اخلاص سے کام لو اور دین کے قبول کرنے میں ظاہر و باطن میں دکھ سکھ میں۔غرض کسی حالت میں ہو۔اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کے ساتھ تمہارا تعلق نہ ہو۔اگر مُنکر بُرا منا ویں تو پڑے مناویں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۵۶) : تمہارا دین خدا کیلئے ہو جاوے۔: غیر اﷲ کے پرستار۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۸) ۱۶۔ روح کلامِ الہٰی ہی کا نام ہے جس پر عمل کرنے سے موتیٰ اور مُردہ بے ایمان زندہ ہوتے ہیں بلکہ قرآن نے انبیاء اور ملائکہ کو بھی روح فرمایا ہے۔کیونکہ وہ بھی اسی زندگی کے باعث ہیں۔جسے ایمان کہتے ہیں۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۱۴) : روح سے مراد کلامِ الہٰی ہے جان۔سَول (SOUL) کو عربی بولی میں نفس کہتے ہیں۔قرآن شریف میں روح کے معنے کلام ہی کے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۴؍ نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۸) بلند درجوں والا صاحب تخت کا اپنے امر سے جس بندے پر چاہتا ہے۔روح ڈالتا ہے تو کہ وہ ملاقات ( قیامت ) کے دن سے ڈراوے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۱۱۳) صاحب اونچے درجوں کا مالک تخت کا۔اتارتا ہے بھید کی بات اپنے حکم سے جس پر چاہے۔اپنے بندوں میں کہ وہ ڈراوے ملاقات کے دن سے۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ۷۵) ۲۶۔ …الخ: بولے مارو بیٹے ان کے جو