حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 48 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 48

لکھا ہے کہ موجودہ بتوں سے پہلے ان کی جگہ دو اور دیو تھے جو وصلی اور ٹہنیوں اور چھڑیوں سے بنے ہوئے تھے۔اور وہ لارڈ میئر کے دن نمائش کیلئے باہر لائے جاتے تھے۔لیکن جب بسبب مدید زمانہ کے بوسیدہ ہو گئے۔تو ان کے قائمقام موجودہ عظیم الشان ٹھوس بُت تراش کر بنائے گئے۔وہ شخص جس نے ان کو بنایا تھا اس کا نام کپتان رچرڈ سانڈرس تھا۔جس کو اس کاریگری کے عوض میں ستّر پونڈ دئے گئے۔ہمارے مفسرّوں نے تو فرمایا ہے کہ وہ پہاڑ چاٹتے ہیں اور ان کو پیاز کے برابر کر دیتے ہیں۔مگر میں بحمد اﷲ دیکھتا ہوں کہ انہوں نے پہاڑ۔دریا۔لوگوں کا مال۔عزّت جاہ و سلطنت۔بلند پروازی۔ہمّت و استقلال سب کچھ کھا کر موسٰیؑ کے سانپ کی طرح، تم دیکھ لو، ڈکار بھی نہیں لیا۔بلکہ جیسے ہمارے ملک میں پاد عیب ہے ان کے یہاں تو ڈکار عیب ہو گیا ہے۔اور ان کے کان تو اتنے لمبے ہیں کہ مشرق و مغرب تک کی آواز ہر روز سن کر سوتے اور اُٹھتے ہی سنتے ہیں۔زمانہ سابق میں جبکہ تارپیڈو اور توپ کا عام موقع نہ تھا۔لوگ دیواروں سے حفاظت کا کام لیتے تھے۔جنہیں فصیل کہتے تھے۔چنانچہ لاہور کی فصیل ہمارے سامنے گرائی گئی۔امرت سر کی خندق و فصیل ہمارے سامنے ضائع کی گئی وغیرہ وغیرہ۔بلکہ دیانند اور منوجیؔ نے فصیلوں کا اپنے شاستروں میں ذکر فرمایا ہے۔جن کا آگے حوالہ آتا ہے۔غرض اپنے اپنے وقتوں میں حملہ آوروں کی حفاظت کیلئے لوگوں نے ایسی دیواریں بنائی ہیں۔اسی طرح چین کی دیوار مشہورِ عالم ہے۔فضلؔ بن یحییٰ برمکی نے اسلام میں ایک ایسی دیوار بنوائی۔دیکھو مقدمہ ابنِ خلدون اقلیم ثالث کا بیان صفحہ ۵۴ میں ہے کہ ترک اور بلاد ختل میں ایک ہی مسلک مشرق میں ہے وہاں فضل نے ایک سدّ بنوائی۔سدِّسبا ۸۱۔۹۷ سدِّیاجوج ماجوج ۲۰۶ سدِّ مَآرب ۹۶۔۹۷ اور بنام دربند صفحہ۳۵ اور بنام حصن ذوالقرنین۔۹۳ (تقویم البلدان) کتاب البلدانؔ صفحہ ۷۱، ۲۹۸، ۳۰۱ اور مراصدالاطلاع کے صفحہ۱۱۱ میں ہے۔دیکھو مراصدالاطلاع باب الباء والالف طبع فرانس جلد اوّل اور اسی کی تائید آثارِ باقیہ سے بھی ہوتی ہے صفحہ ۴۱ کہ باب الابواب ایک شہر ہے۔بحرِ طبرستان پر جس کو لوگ بحر خرز کہتے ہیں اور وہ جبلِ قبق کے بہت درّوں میں سے ایک درّہ ہے۔اس درّہ میں ایک دیوار کو انوشیروان ( یہ نیا انوشیروان نہیں پرانا ہے) نے قومِ خرز کے حملوں سے بچنے کیلئے بنوایا تھا کیونکہ خرز قوم فارس پر ( یہ وہی میدیا کی جزو ہے) ایسے حملے کرتے تھے کہ ہمدان اور موصل تک پہنچ جاتے تھے۔اور مراصدالاطلاع کی جلدنمبر۲