حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 500
۱۱۔ خداوند تعالیٰ کے اوامر کا پابند بننا اور نواہی سے اپنے آپ کو بچانا یہ بھی تقویٰ کے ایک معنے ہیں۔یہ نہایت لغو خیال ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دنیا میں ذلیل ہی رکھتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہےٖ (منافقون:۹)سُکھ دنیا میں سات قسم کے ہوتے ہیں۔ایک سُکھ انسان کی ذات کے ساتھ وابستہ ہے۔مثلاً اگر انسان میں حرص نہ ہو تو یہ ایک سُکھ ہے۔ایسے ہی اگر غضب کا مادہ ہم میں نہ ہو تو سُکھ ہے۔اسی طرح شہوت نہ ہو تو بد نظری اور خیالات سے آزاد۔میں نے جریان کے مریضوں میں۹۵ فیصدی ایسے دیکھے ہیں۔جو بد نظری اور خیالی جماعوں کے باعث مبتلا ہوئے۔جھوٹ نہ بولے تو بے اعتباری کا داغ اس سے اُٹھ جاتا ہے۔کاہلی اور سُستی کو چھوڑے۔دوسرا سُکھ یہ ہے۔کہ بیوی نیک ہو غمگسار ہو۔تیسرا سُکھ ماں باپ بہن بھائی وغیرہ رشتہ داروں کی طرف سے۔چوتھاسُکھ برادری کے ساتھ تعلقات اچھے ہوں۔پانچواں سُکھ غیر قوم اور اپنی قوم سے۔چھٹا بادشاہ سے تعلق اچھا ہو یعنی گورنمنٹ کی اعلیٰ خدمات انجام دیں۔ساتواں مرتبہ سُکھ کا یہ ہے کہ حضرت حق سبحانہٗ تعالیٰ سے تعلقات اچھے ہوں۔جہاں انسان کا دین مذہب اور خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلقات بگڑتے ہوں تو انسان کو چاہیئے کہ اس مکان کو یا اس شہر یا اس ملک کو چھوڑ دے۔پس اگر تم اپنی ذات۔اپنی بیوی۔ماں باپ۔اپنی قوم۔اپنے خدا کے نزدیک بڑا بننا چاہتے ہو تو اپنے تعلقات کو سدھارو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۷؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۶) ۱۹۔ : اﷲ کی بات، لوگوں کی بات، مگر پیروی احسن