حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 498
اشقیاء درکارِ عقبیٰ جبری اند اولیاء درکارِ دنیا جبری اند علمِ ہندسہ جس کی بناء پر آج انجینئرنگ اور اسٹرانومی معراج پر پہنچ گئی ہے۔سوچ لو۔کیسے فرضی امور سطح مستوی اور نقطہ سے جس کو سیاہی سے بناتے ہیں اور قلم کے خط سے شروع ہوتا ہے۔خطِ استوا جدی۔سرطان۔افق نصف النّہار وغیرہ سب فرضی باتیں ہیں۔مگر اس فرص سے کیسے حقائقِ مادیہ تک پہنچ گئے ہیں۔لیکن اگر ان بد نصیبوں کو کہیں کہ مومن بالغیب ہو کر دعاؤں اور نبیوں کی راہوں پر چل کر دیکھو تو کیا ملتا ہے۔تو ہنس کر کہتے ہیں۔کیا آپ ہمیں وحشی بنانا چاہیتے ہیں؟میں نے بارہا ان (مادیوں) کو کہا ہے۔تندرست آنکھ بدوں اس خارجی روشنی اور تندرست کان بدوں اس خارجی ہوا کے اور ہمارا نطفہ بدوں ہم سے خارج رِحم کے بہت دور کی اشیاء بدوں ٹیلیسکوپ کے باریک در باریک اشیاء بدوں مائیکرو سکوپ کے۔دور دراز ملکوں کے دوستوں کی آوازیں بدوں فونوگراف کے اور ان کی شکلیں بدوں فوٹوگرافی کے نہیں دکھائی دیتیں۔اب جبکہ تم ان وسائط کے قائل ہو اور اضطراراً قائل ہونا پڑتا ہے تو روحانی امور میں کیوں و سائط کے منکر ہو؟ خدا تعالیٰ کی ہستی کو مان کر بھی تم ملک اور شیاطین کے وجود پر کیوں ہنسی کرتے ہو؟ افسوس اس کا معقول جواب آج تک کسی نے نہیں دیا! ناظرین جس طرح سچے وسائط ہمارے مشاہدات میں ہیں۔اسی طرح سچے وسائط مکشوفات میں بھی ہیں۔جس طرح مشاہدات میں الہٰی ذات وراء الورا ہے اور ضرور ہے۔اسی طرح الہٰی ذات روحانیت میں بھی وراء الورا ہے۔اگر روحانیات میں بھی بعض و سائط غلط اور وہم ہیں۔تو مشاہدات ہی اس غلطی اور وہم سے کب خالی ہیں۔فرشتے آسمان اور آسمانی اجرام اور ان کے ارواح کیلئے بطور جان کے ہیں۔شیاطین بھی ہلاکت۔ظلمت اور جناب الہٰی سے دُوری اور دُکھوں کے پیدا کرنے کیلئے بمنزلہ اسٹیم کے اسٹیم انجن کیلئے ہے۔(نورالدّین طبع سوم صفحہ۱۹۸،۱۹۹)