حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 497
۴۔ وسائل و وسائط کو تمام دنیا کے مذاہب ضروری تسلیم کرتے ہیں۔کافر و مومن۔جاہل و عالم۔بت پرست و خدا پرست۔سو فسطائی۔دہریہ۔جناب الہٰی کا معتقد۔غرض سب کے سب وسائل و وسائط تو عملاً مانتے ہیں۔کون ہے جو بھوک کے وقت کھانا۔پیاس کے وقت پینا۔سردی کے وقت کوئی دوائی یا گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ اختیار نہیں کرتا۔مقام مطلوب پر جلدی پہنچنے کیلئے میل ٹرین یاسٹیمر کو پسند نہیں کرتا؟ اگر مومن صرف حضرت حق سبحانہٗ کی مخلصانہ عبادت کرتا اور شرک اور بدعت اور اہواسے پرہیز کرتا ہے۔تو غرض اس کی اُسے ذریعۂ قربِ الہٰی بنانا ہوتا ہے۔اور بُت پرست اگرچہ حماقت سے بُت پرست ہے مگر کہتا وہ بھی یہی ہے کہ … ہم تو ان کو خدا کے قرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔اگرچہ یہ ان کا کہنا اور اس کا عمل درآمد غلط ہی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسبابِ صحیحہ بھی ہوتے ہیں اور ایسے اسباب بھی ہیں جن کا مہیّا کرنا مومن کا کام ہے۔اور ایسے بھی جن کا مہیّا کرنا عام عقلمندوں اور داناؤں کا حصّہ ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب ماننا باعثِ شرک ہے اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب خیال کرنا جہالت اور وہم اور حماقت ہے۔تعجب انگیز بات ہے کہ بہت سے فلاسفر۔سائنس دان اور حکماء علل مادیہ اور اسباب عادیہ پر بحث کرتے کرتے ہزارہانکات عجیبہ اور دنیوی امور میں راحت بخش نتائج پر پہنچ جاتے ہیں۔مگر روحانی ثمرات پر ہنسی ٹھٹھے کر جاتے ہیں۔وجنوب و شمال کو قطب اور قطب نما کی تحقیق میں اوراس پر مشرق و مغرب چھان مارا ہے اور سورج اور چاند کی کرنوں سے اور روشنیوں سے بیشمار مزے لُوٹے ہیں لیکن اگر کسی کو انہی نظاموں سے ہستی باری تعالیٰ پر بحث کرتا دیکھ لیں تو اسکے لئے مذہبی جنون اور اس کو مجنوں قرار دیتے ہیں۔کیسا بے نظیر نظارہ ہے جس کو ایک اسلام کا حکیم نظم کرتا ہے۔