حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 488 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 488

جیسے عشق۔مگر میری یہ حُبّ جوان گھوڑوں سے ہے یہ پسندیدہ حُبّ ہے کیوں کہ ان سے میں اپنے مولیٰ کو یاد کرتا ہوں حدیث شریف میں آیا ہے اَلْخَیْلُ مَعْقُوْدٌ فِی نَوَاصِیْھَا الْخَیْرُ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ آپ خدا تعالیٰ کے فضل و احسان بیان کرنے میں مشغول رہے اتنے میں گھوڑے سامنے سے گزر گئے () آپ نے فرمایا انہیں پھر واپس لاؤ۔جب پھر گزرنے لگے تو آپ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے۔گھوڑوںکو پیار کرنے کا یہی طریق ہے۔اگر مسح کے معنے تلوار مارنے ہی کے ہوں۔تو پھر سب سے پہلے وضو کرنے والے ہی اپنی گردن کاٹ لیا کریں۔( تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۷ماہ فروری ۱۹۱۲ء) جب ان کے سامنے پچھلے پہر گھوڑے پیش کے گئے تو انہوں نے وعظ فرمایا کہ مجھ کو گھوڑوں کی محبت خدا کیلئے ہے۔یہاں تک کہ سوار ان کو جو پھیر رہے تھے وہ اتنی دور لے گئے کہ نظروں سے غائب ہو گئے۔آپ نے حکم دیا کہ لوٹاؤ۔ان گھوڑوں کو تھپکی دیتے تھے کے یہ معنے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) : اﷲ کیلئے جہاد کا سامان ہونے کی وجہ سے گھوڑوں سے پیار کرتے ہیں۔: معائنہ ہو رہا تھا سوار آگے نکل گئے۔فرمایا۔واپس لاؤ۔: جو لوگ اس کے معنے تلوار کرتے ہیں وہ وضو میں  کی آیت کی تعمیل بھی اسی طرح کریں کہ اپنے سر پر تلوار چلا لیا کریں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۳۵،۳۶۔   انکی کرسی پر وہ شخص قائم ہوا جس میں دینداری کی روح نہ تھی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) : مراد یہ ہے کہ آپ کا بیٹا نالائق تھا۔سے مراد رضا و قربِ الہٰی کا مقام ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۷ماہ فروری ۱۹۱۲ء) لَا: اپنے تقرب کا ملک دو۔جو دوسرے کی وراثت میں نہیں آتا انسان اپنے آپ میں ترقی کرے تو بڑی بات ہے۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۸ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء)