حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 487 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 487

تھا۔کہ ہمارا مقدمہ فیصل کر دیجئے۔اس موقعہ پر لوگوں نے بڑی دور از کار باتیں بیان کی ہیں۔حضرت داؤد کی زبانی خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ کسی کی دُنبی ناجائز طور پر لے لینا جائز نہیں۔پھر بھلا وہ قصّے جو ان کی نسبت مشہور ہیں۔تو حضرت داؤدؑ نبی کہاں ہو سکتے تھے۔حضرت سلیمانؑ کے بعد ان کے جانشین کے پاس امراء آئے۔بعضوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے باپ اور دادا کے زمانہ میں خدمات کی ہیں۔آپ ہماری رعایات رکھیں۔اس جانشین کے مصاحب بڑے کمینے تھے۔انہوں نے کہا کہ اتفاق سے یہ اس وقت جمع ہو گئے ہیں۔ان سب کو یہیں ختم کر دو۔اس جانشین کا نام رحبعامؔتھا۔اس نے کہا کہ نہیں۔ان سبھوں نے مل کر یعنی بنی اسرائیلی قوموں نے مل کر اسی رات بغاوت کی۔پاک دوست سچّی دعاؤں سے میسّر آتے ہیں۔میں سچ کہتا ہوں کہ پاک دوست سچّی دعاؤں سے میسّر آتے ہیں۔: یہ خیال کہ بہت سی چیزیں بیکار ہیں۔یہ کافروں کا گمان ہے نہ مومن کا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) ۳۰۔  لِیَدَّ: لوگ اپنے دماغ سے بڑے بڑے کام لیتے ہیں لیکن قرآن کریم میں تدبّر نہیں کر سکتے۔حضرت داؤد بُرے نہ تھے۔اگر بُرے ہوتے تو ان کو سلیمانؑ جیسا بیٹا عطا نہ ہوتا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) ۳۳،۳۴۔  حضرت سلیمانؑ کی نسبت بعض لوگوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ آپکی عصر کی نماز قضاء ہو گئی تو گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں کو تلوار سے اڑا دیا۔یہ مجنونانہ فعل ایک نبی کی شان سے بعید ہے۔بات یہ ہے کہ آپ گھوڑوں کا معائنہ فرما رہے تھے۔آپ نے فرمایا کہ حُبّ بھی دو قسم ہے۔بعض حُبّیں دُکھ کا موجب ہوتی ہیں