حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 483
کی قوم اس سے ملی ہوئی تھی۔تیری قوم تیرے ساتھ نہیں۔داؤد کے پاس مال و اسباب اور بادشاہت تھی اور تیرے پاس نہیں۔شریر لوگ جب کہ داؤد کا مقابلہ کر لیتے تھے تو تیرے جیسے انسان پر اگر حملہ کر لیں تو کیا بات ہے۔جس طرح داؤد عفو سے کام لیتے تھے۔اسی طرح تم بھی عفو سے کام لو۔داؤد کے زمانہ میں جس قدر ہولی لینڈ ۱؎۔اور شام کے پہاڑ تھے سب ان کے ماتحت تھے۔یہاں تک کہ جو لوگ متنفّر تھے وہ بھی ان کے حضور میں حاضر تھے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) قرآن کریم میں حضرت داؤد علیہ السلام کی نسبت ارشاد ہے … یعنی یاد کرو ہمارے بندے داؤد کو بہت ہاتھوں والا (بڑا طاقت ور) وہ جناب الہٰی کی طرف توجّہ کرنے والا ہے۔اور یدؔ کے معنے نصرت وغیرہ کے بھی ہیں۔راغب میں ہے۔(فتح:۱۱)اَی نُصْرَتُہٗ وَ نِعْمَتُہٗ وَقُوَّتُہ‘۔یدؔ کے معنے ملک و تصرّف کے بھی ہیں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔(بقرہ:۲۳۸) ان معنوں میں سے ہر ایک یہاں چسپاں ہو سکتا ہے اور عام انسانی بول چال میں بھی ہاتھ کا لفظ ان سب معنوں پر بولا جاتا ہے۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ۲۰۳،۲۰۴) ۲۰۔ : متنفّر لوگ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) ۲۱۔ : فیصلہ کر دینے والی بات۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) ۱؎ THE HOLY LAND ارض مقدّسہ (فلسطین)