حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 480

مُنْذِرٌ : حالانکہ ان کے حکماء۔علماء و مقنِّن و پولیس مین و بادشاہ انہی سے ہوتے ہیں۔پس رسول کا انہی میں سے آنا فطرت کے خلاف نہیں۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۷۷ ماہ ستمبر ۱۹۱۳ء) ۶۔ دیکھو اس نے متعدد معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا۔یہ تو اچنبھے کی بات ہے۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ۲۲۴) بعض لوگوں نے قرآن مجید کی زبان پر اعتراض کیا کہ  اورکُبَّارًا اور ھُزُوًایہ خلافِ محاورہ و غیر فصیح الفاظ ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اپنے کسی زبان دان بوڑھے کو بلاؤچنانچہ ایک کو مجلسِ نبویؐ میں لائے۔آپؐ نے اسے فرمایا۔بیٹھ جاؤ۔جب بیٹھا تو فرمایا۔ذرا اٹھنا۔پھر بیٹھا تو پھر فرمایا۔ذرا آپ اٹھ کر اس طرف تشریف رکھ لیں۔جب وہ اس طرف بیٹھا تو پھر آپؐ نے فرمایا۔آپ ذرا یہاں سے اٹھئے اور ادھر آجایئے تو وہ جھنجھلا کر بول اٹھا۔یَا محمدؐ أَتَتِّخُذُنِیْ ھُزُوًا وَ اَنَا شَیْخٌ کُبَّارٌ۔اِنَّ ھٰذَالَشَیْیئٌ عُجَابٌ۔اے محمدؐ کیا تو مجھے خفیف بنانا چاہتا ہے حالانکہ میں ایک بڈھا۔بڑی عمر کا آدمی ہوں۔یہ بڑی عجیب بات ہے۔اس طرح پر وہ تینوں الفاظ اس زبان دان تجربہ کار۔فصیح و بلیغ بڈھے کے منہ سے نکلوائے۔اور معترضین نادم ہو کر دم بخود رہ گئے۔(تشحیذالاذہان جلد۷ نمبر۲ صفحہ۸۵ ماہ فروری ۱۹۱۲ء) ۷۔  : بول اٹھے۔: کچھ اعتراض ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۴) اور ان کے سرداریہ کہتے ہوئے (انہیں) چلے کہ چلو اپنے معبودوں پر پکّے رہوکیونکہ یہ ایک بات