حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 475

ہوئی تو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا پہلا اجتہاد واقعہ کے لحاظ سے غلط ثابت ہوا۔(بدر ۲۴؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ۶) ۱۰۴ تا ۱۰۶۔  جب وہ دونوں خدا تعالیٰ کے حکم پر راضی ہو گئے اور ابراہیمؑ نے اسے منہ کے بل زمین پر لٹایا۔ہم نے آواز دی۔اے ابراہیم۔تو نے اپنی رؤیا کو سچّا کر دکھایا۔ہم محسنوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔(نور الدّین طبع سوم صفحہ۱۷۰) : سیر یا (شام) جانب شمالی عرب ( جس میں بیت المقّدس فلسطین ہے) کے ملک میں انسانی قربانی کا رواج تھا چنانچہ مسیحی تعلیم کی جڑھ بھی یہی ہے۔اسی بناء پر وہ خدا کے اکلوتے بیٹے کی قربانی پر ایمان لاتے ہیں۔ہند میں بلیدان کا رواج تھا۔جے پور میں اب بھی اس جگہ روز بکرا ذبح ہوتا ہے۔حضرت حق سبحانہٗ نے حضرت ابراہیمؑکو ایک رؤیا دکھلائی۔کہ وہ اپنا بیٹا ذبح کرتے ہیں۔اس کااعلان کیا۔اس پر تیار ہو گئے۔پھر بیٹے کی جگہ حسبِ تفہیمِ الہٰی بکرا ذبح کیا۔اور یہ سمجھایا کہ اس کی اصل یہ ہے کہ خدا کا مکالمہ پہلے ایسے رنگ میں ہوا کہ لوگ سمجھ نہیں سکے کہ بیٹے کی قربانی سے کیا مراد ہے۔اور اس طرح پر اس بد رسم کا ایک راستباز کے عمل سے قلع قمع ہوا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۳،۱۰؍نومبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۲۱۳) ۱۰۷ تا ۱۱۲۔