حقائق الفرقان (جلد ۳)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 632

حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 474

چھوڑو۔ایک ہی حملہ میں یہ سب تمہارے پاس بیٹھنے والے بھاگ جائیں گے۔اس پر صحابہؓ سے ایک خطرناک آواز سنی اور وہ ہکّا بکّا رہ گیا۔یہ حضرت نبی کریمؐ کے اﷲ کے حضور بار بار جان قربان کرنے کا نتیجہ تھا کہ ایسے جاں نثار مرید ملے۔آخر وہ جو باپ بنتے تھے۔جو تجربہ کار تھے۔ہر طرح کی تدبیریں جانتے ان سب کے منصوبے غلط ہو گئے۔اور وہ خدا کے حضور قربانی کرنے والا متّقی نہ صرف خود کامیاب ہوا بلکہ اپنے خلفاء راشدین کیلئے بھی یہی وعدہ لے لیا۔(بدر ۲۳؍جنوری ۱۹۰۸ء صفحہ۸۔۹) بخاری شریف جو قرآن مجید کے بعد دنیا کی تمام کتابوں سے زیادہ صحیح اور زیادہ واجب التعظیم ہے۔اس میں ایک حدیث آئی ہے۔اس کو نقل کرتا ہوں۔حدیث: قَالَ اَبُوْ مُوْسٰی عَنْ نَّبِیَّ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ قَالَ رَئَیْتُ ٰفِی الْمَنَامِ اِنِّیْ اُھَاجِرُ مِنْ مکَّۃ اِلَی الْاَرْضٍ بِھَا نَخْلٌ فَذَھَبَ وَھْلِیْ اِلٰی اَنَّھا الْیَمَامَۃُ اَوْ ھَجَر فَاِذَا ھِیَ الْمَدِیْنَۃُ یَثْرِبَ۔(ترجمہ) ابو موسٰیؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ہجرت کر وں مکّہ سے ایک زمین کی طرف جس میں کھجوروں کے باغ ہوں۔پس گیا میرا اجتہاد اس بات کی طرف کہ وہ جگہ یمامہ نام مقام ہے یا ہجر نام گاؤں ہے۔مگر آخر معلوم ہوا کہ وہ مدینہ تھا۔اب دیکھئے۔رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے خواب دیکھی اور جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ کا فقرہ ہے ویسا ہی آپؐ کا ہے۔چنانچہ حضرت ابرہیمؑ فرماتے ہیں۔کہ اور ایسا ہی فقرہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا ہے۔رَئَیْتُ فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اُھَاجِرُ یعنی مجھے خواب میں ارشاد ہوا کہ میں ہجرت کروں اور جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خواب وحی الہٰی اور امرِ الہٰی تھی۔اسی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خواب بھی وحی الہٰی تھی۔اور اس میں ہجرت کا حکم تھا جیسا کہ دوسرے مقام پر بخاری شریف ہی میں آتا ہے اُمِرَ بِالْھِجْرَۃِ یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہجرت کا حکم ہوا تھا۔سو صاف ظاہر ہو گیا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وحی کی طرح رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو بھی اس وحی میں ہجرت کا حکم تھا۔مگر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو اجتہادی غلطی لگی اور آپؐ نے مدینہ طیبّہ کی جگہ یمامہ اور ہجر نام مقام سمجھ لیا۔اب ناظرین ہی انصاف سے دیکھیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو وہ جگہ دکھلائی گئی لیکن آپؐ نے اجتہاد میں غلطی سے بجائے مدینہ طیبّہ کے یمامہ اور ہجر خیال کیا۔مگر جب ہجرت