حقائق الفرقان (جلد ۳) — Page 473
۔سو برس کے قریب کا بڈھا۔ایک ہی بیٹا۔اپنی ساری عزّت۔ناموری۔مال۔جاہ و جلال اور امیدیں اسی کے ساتھ وابستہ۔دیکھو متّقی کا کیا کام ہے۔اس اچھے چلتے پھرتے جوان لڑکے سے کہا۔میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تجھے ذبح کروں بیٹا بھی کیسا فرماں بردار بیٹا ہے۔۔اباجی۔وہ کام ضرور کرو جس کا حکم جناب الہٰی سے ہوا۔میں بفضلہ صبر کے ساتھ اسے برداشت کروں گا۔یہ ہے تقویٰ کی حقیقت۔یہ ہے قربانی۔قربانی بھی کیسی قربانی کہ اس ایک ہی قربانی میں سب ناموں۔امیدوں ناموریوں کی قربانی آ گئی۔جو اﷲ کیلئے انشراحِ صدر سے ایسی قربانیاں کرتے ہیں۔اﷲ بھی ان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔اس کے بدلے ابراہیمؑ کو اتنی اولاد دی گئی کہ مردم شماریاں ہوتی ہیں مگر پھر بھی ابراہیمؑ کی اولاد صحیح تعداد کی دریافت سے مستثنٰی ہے۔کیا کیا برکتیں اس مسلم پر ہوئیں۔کیا کیا انعامِ الہٰی اس پر ہوئے کہ گننے میں نہیں آ سکتے۔ہماری سرکار خاتم الانبیاء سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وسلم بھی اسی ابراہیمؑ کی اولاد سے ہوئے۔پھر اس دین کے حفاظت کیلئے خلفاء کا وعدہ کیا۔کہ انہیں طاقتیں بخشے گا اور ان کو مشکلات اور خوفوں میں امن عطا کرے گا۔یہ کہانی کے طور پر نہیں۔یہ زمانہ موجود۔یہ مکان موجود۔تم موجود۔قادیان کی بستی موجود۔ملک کی حالت موجود ہے۔کس چیز نے ایسی سردی میں تمہیں دور دور سے یہاں اس مسجد میں جمع کر دیا۔سنو! اسی دستِ قدرت نے جو متّقیوں کو اعزاز دینے والا ہاتھ ہے۔اس سے پہلے پچیس برس پر نگاہ کرو۔تم سمجھ سکتے ہو کہ کون ایسی سخت سردیوں میں اس گاؤں کی طرف سفر کرنے کے لیئے تیار تھا؟ پس تم میں سے ہر فرد بشر اس کی قدرت نمائی کا ایک نمونہ ہے۔ایک ثبوت ہے۔کہ وہ متّقی کیلئے وہ کچھ کرتا ہے جو کسی کے سان و گمان میں بھی نہیں ہوتا یہ باتیں ہر کسی کو حاصل نہیں ہوتیں۔یہ قربانیوں پر موقوف ہیں۔انسان عجیب عجیب خوابیں اور کشوف دیکھ لیتا ہے۔الہام بھی ہو جاتے ہیں۔مگر یہ نصرت حاصل نہیں کر سکتا۔جس آدمی کی یہ حالت ہو وہ خوب غور کر کے دیکھے۔کہ اس کی عملی زندگی کس قسم تھی۔آیا وہ ان انعامات کے قابل ہے یا نہیں۔یہ (مبارک وجود) نمونہ وجودہے۔اسے جو کچھ ملا۔ان قربانیوں کا نتیجہ ہے جو اس نے خداوند کے حضور گزاریں۔جو شخص قربانی نہیں کرتا۔جیسی کہ ابراہیمؑ نے کی اور جو شخص اپنی خواہشوں کو خدا کی رضاء کیلئے نہیں چھوڑتا۔تو خدا بھی اس کیلئے پسند نہیں کرتا۔جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کیسے دشمن موجود تھے۔مگر وہ خدا جس نے (المؤمن:۵۲)فرمایا۔اس نے سب پر فتح دی۔صلح حدیبیہ میں ایک شخص نے آ کر کہا کہ تم اپنے بھائیوں کا جتھّا نہ